اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے لڑکی سے زیادتی اور جھوٹے نکاح کا دعویٰ کرنے والے شخص پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا
جبکہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے محمد شہزاد کی اپیل خارج کر دی۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ درخواست گزار نے اپنی بیوی کی سگی بھتیجی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اسے شرعی نکاح کا رنگ دینے کی کوشش کی، وہ پہلے سے شادی شدہ ہے، قانونی بیوی متاثرہ لڑکی کی سگی پھوپھی ہے، پھوپھی کی موجودگی میں اس کی سگی بھتیجی سے نکاح قانونی طور پر جائز نہیں ہوسکتا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ پٹیشنر نے قانونی رکاوٹ سے بچنے کے لیے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کا من گھڑت دعویٰ کیا، اور انسانیت سوز فعل کو چھپانے کیلیے جھوٹی کہانی گھڑی، جس کا کوئی قانونی ثبوت نہیں۔عدالت نے پٹیشنر کو متاثرہ خاتون سے پیدا ہونے والے بچے کا حیاتیاتی والد قرار دیتے ہوئے کہا کہ نکاح ثابت نہ ہونے کے باوجود حیاتیاتی والد اپنے بچے کو نان و نفقہ دینے کا قانونی اور اخلاقی پابند ہے، معصوم بچے کو والدین کے غیر قانونی تعلق یا تنازعات کے باعث بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
پٹیشنر نے عدالتی عمل کو خاتون کو ہراساں کرنے اور اخلاقی طور پر دبانے کے لیے بطور آلہ استعمال کیا، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر انسان کے وقار کی حرمت ناقابلِ تسخیر ہے۔



















































