اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کمزور اور سفید پوش طبقے کی مالی معاونت اور سماجی تحفظ کو حکومت کی اولین ترجیح قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے سے بھی زیادہ موثر اور بہتر رمضان پیکج کے لئے سفارشات تیار کی جائیں اورامدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، تمام متعلقہ ادارے آئندہ رمضان المبارک کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ موثر اور سود مند پیکج اور سفارشات مرتب کریں۔جمعہ کووزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان اور پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی پچھلے سال رمضان پیکج کی شفافیت پر مستند آڈٹ ادارے کی طرف سے رپورٹ پر ستائش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال سے وفاقی حکومت نے غریب عوام کو رمضان پیکج کی بدولت ارزاں نرخوں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا ہے ، ملک میں کئی دہائیوں سے جاری یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے، مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور غریبوں کے استحصال کا رائج نظام حکومت نے شفاف نظام میں تبدیل کر دیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے آئندہ رمضان المبارک کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ موثر اور سود مند پیکج اور سفارشات مرتب کریں۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حق سے محروم تھے، غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غریب عوام میں رمضان پیکج کے امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے تاکہ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو، عوام کو امدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کیش لیس معیشت کے حصول کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگی،سٹیٹ بنک کی رمضان پیکج کی تقسیم میں شمولیت سے کیش لیس اکانومی کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی رقوم میں غریب عوام کے دائرہ کار اور شمولیت کو ممکن حد تک وسیع کیا جائے اور رمضان پیکج میں پچھلے سال سے بہتر اور موثر ادائیگی کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اور سفارشات جلد پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر نگرانی کے لئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے۔ وزیراعظم کو اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں عالمی شہرت یافتہ اور مستند آڈٹ فرم نے حکومتی پیکج کو موثر اور شفاف قرار دیا ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سوشل پروٹیکشن والٹ نظام رائج کیا جارہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد میں مفت سمز تقسیم کی جارہی ہیں اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم اسی سم کے ذریعے ڈیجیٹلی تقسیم کی جائیں گی، وزیراعظم کو پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکج میں کسی قسم کی مالی بے ضابطگی یا سنگین انتظامی بدنظمی و بدعنوانی نہیں پائی گئی۔ وزیراعظم نے یوٹیلٹی سٹورز میں دہائیوں سے جاری مالی بدعنوانی اور بدنظمی کے خاتمے کو وفاقی حکومت کا انقلابی قدم قرار دیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اخترخان ، چیئرمین نادرا اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔















































