اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

نومبر میں کچھ، دسمبر میں بہت کچھ ہونے والا ہے، سہیل آفریدی

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے اور مرکز کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود وہ تصادم نہیں چاہتے اور جمہوری طریقے اختیار کرنے کے خواہاں ہیں۔صحافیوں اور اینکر پرسنز سے خیبر پختونخوا ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عندیہ دیا کہ نومبر میں کچھ اہم پیش رفت جبکہ دسمبر میں بڑے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں، تاہم تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ تمام آئینی راستے اختیار کر چکے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو باقاعدہ خط بھی لکھا تاکہ معاملہ ریکارڈ پر آجائے۔ ان کے بقول:“مریم نواز کا فرض ہے کہ وہ جواب دیں، یہ ایک سیاسی روایت ہے۔ میں انتظار کر رہا ہوں۔

میڈیا بتائے کہ اب ملاقات کے لیے مجھے کیا قدم اٹھانا چاہیے؟”انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا کسی بانی رہنما سے کوئی رابطہ نہیں، البتہ وزیراعظم نے انہیں مبارک باد ضرور دی ہے، مگر سوشل میڈیا پر ہر کسی بشمول وزیراعظم کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو اپنے خط کو ’’معذرت نامہ‘‘ تصور کرنے کا مشورہ بھی دیا۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبہ اس وقت کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔“ہماری جماعت پر دہشتگردوں کو بساکر دینے کا الزام غلط ہے۔ ٹی ٹی پی کو تو پی ڈی ایم دور میں واپس لایا گیا تھا۔ دہشتگرد مارے جائیں تو کوئی اعتراض نہیں کرتا، مگر بے گناہوں کی ہلاکت پر ضرور آواز اٹھائیں گے۔”کرپشن سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ثبوت موجود ہے تو نیب تک پہنچایا جائے، وہ کارروائی کی حمایت کریں گے۔مزاحیہ انداز میں انہوں نے کہا: “میں سات مرلے کا گھر بھی نہیں بنا سکتا، جس دن بنا لوں تو مجھے گرفتار کر لیجیے گا۔

”منشیات کے کاروبار پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر صوبے میں اس نیٹ ورک میں کوئی سیاسی تعلق ثابت ہو جائے تو وہ فوری کارروائی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب سے بھی کئی لوگ انہیں احتجاج کی حمایت میں پیغامات بھیج رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے شہداء کا دکھ وہ ذاتی غم سمجھتے ہیں اور اگر اعتماد میں لیا جائے تو دہشتگردی کے خلاف دوبارہ قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ان کی کورکمانڈر پشاور سے اہم ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ وہ این ایف سی ایوارڈ اجلاس میں شریک ہوں گے اور مطالبہ ہے کہ وفاق صوبے کے واجب الادا فنڈز فوری جاری کرے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت کے حامی ہیں، لیکن ان کے مطابق ’’موجودہ حکومت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں نکلتا۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…