جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان، چین اور افغان وزرائے خارجہ کا اجلاس، سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق

datetime 20  اگست‬‮  2025 |

کابل (این این آئی)افغانستان، چین اور پاکستان نے تجارت، ٹرانزٹ، علاقائی ترقی، صحت، سیکیورٹی ، تعلیم و ثقافتی تعاون بڑھانے اور سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا ہے۔بدھ کو کابل میں افغانستان، چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے مابین سہ فریقی مذاکرات کا چھٹا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں تینوں ممالک نے سیاسی، اقتصادی اور ٹرانزٹ شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور ماضی کے اجلاسوں میں طے پانے والے فیصلوں پر نظرثانی بھی کی ۔افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے اجلاس کے دوران اپنی گفتگو میں کہا کہ خطے میں مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے بہترین مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اگر تینوں ممالک باہمی اعتماد اور عملی اقدامات پر توجہ دیں تو ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول امارت اسلامیہ افغانستان نے اپنی خارجہ پالیسی کا محور معیشت کو قرار دیا ہے اور یہی کوشش کی جا رہی ہے کہ افغانستان کو محض سلامتی کے چیلنجز والے ملک کے بجائے ایک ایسے مرکز میں تبدیل کیا جائے جو خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کا سنگم ہو۔انہوں نے کہا کہ افغانستان، چین اور پاکستان اقتصادی اعتبار سے بڑے امکانات رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ نہایت ضروری ہے کہ ان امکانات سے مثبت اور ٹھوس طریقے سے استفادہ کیا جائے اور اقتصادی معاملات کو سیاسی یا دیگر نوعیت کے مسائل کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ ان کے بقول خطے کے عوام امن اور خوشحالی چاہتے ہیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب معاشی تعلقات کو اولین ترجیح دی جائے۔چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ چین کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اب صرف تجارتی میدان تک محدود نہیں رہا بلکہ تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور توانائی سمیت متعدد شعبوں میں وسعت اختیار کر چکا ہے۔

وانگ ژی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ افغانستان استحکام کی جانب بڑھتا رہے گا اور خطے میں اقتصادی راہداریوں کے ذریعے مشترکہ ترقی کے امکانات زیادہ سے زیادہ پیدا ہوں گے۔پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اجلاس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، چین اور پاکستان کے مابین وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات نہ صرف موجودہ تعلقات کے استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل کی ترقی کی راہیں ہموار کرنے کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ تینوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مزید گہرا ہوگا اور خطے کے عوام کے لیے خوشحالی کے نئے دروازے کھلیں گے۔ اجلاس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تینوں ممالک کو علاقائی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باہمی رابطوں کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ ٹرانزٹ اور تجارت کے میدان میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ خطے کو پائیدار ترقی اور استحکام کی جانب بڑھایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…