جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی آبی جارحیت کیخلاف چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے ڈیم منصوبوں پر کام تیز کردیا

datetime 19  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نوز ڈیسک) چین نے بھارت کی مبینہ آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں جاری ڈیم منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی جانب سے دریاؤں کے پانی کی ممکنہ بندش پر ردعمل دیتے ہوئے چین نے نہ صرف پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے بلکہ عملی طور پر مہمند ڈیم جیسے اہم منصوبے کی تعمیر میں تیزی لانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

چینی توانائی کمپنی چائنہ انرجی انجینئرنگ کارپوریشن نے خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں واقع مہمند ڈیم پر کنکریٹ پورنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے پر تعمیراتی کام میں نمایاں تیزی آ گئی ہے تاکہ اسے جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ منصوبہ آئندہ سال تک مکمل کر لیا جائے گا۔واضح رہے کہ مہمند ڈیم نہ صرف ایک پن بجلی منصوبہ ہے بلکہ یہ ایک کثیرالمقاصد پروجیکٹ بھی ہے، جس سے 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

ساتھ ہی یہ پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن صاف پانی مہیا کرے گا اور دریائے سوات میں ممکنہ سیلابی خطرات کو بھی کم کرے گا۔ اس کی 700 فٹ بلندی اسے دنیا کے سب سے اونچے ڈیموں میں شمار کرے گی، اور یہ اپنی نوعیت کا پانچواں بلند ترین ڈیم ہو گا۔چین کی جانب سے یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ معاہدہ 1960 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دریاؤں کا پانی تقسیم کیا گیا تھا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی معطلی سے پاکستان کو پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو اپنی 80 فیصد زرعی ضروریات کے لیے دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔

چین نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا، اور اسی تناظر میں ڈیم منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چین کا یہ مؤقف بھارت کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ کشمیر میں دہشتگرد حملے کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ پانی کا معاہدہ معطل کر سکتا ہے۔یہ تمام صورتحال جنوبی ایشیا میں آبی وسائل کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی طرف اشارہ کر رہی ہے، اور چین کے عملی اقدامات پاکستان کے لیے ایک مضبوط سفارتی اور معاشی سہارا بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…