ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

بھارت کی آبی جارحیت کیخلاف چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے ڈیم منصوبوں پر کام تیز کردیا

datetime 19  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نوز ڈیسک) چین نے بھارت کی مبینہ آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں جاری ڈیم منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی جانب سے دریاؤں کے پانی کی ممکنہ بندش پر ردعمل دیتے ہوئے چین نے نہ صرف پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے بلکہ عملی طور پر مہمند ڈیم جیسے اہم منصوبے کی تعمیر میں تیزی لانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

چینی توانائی کمپنی چائنہ انرجی انجینئرنگ کارپوریشن نے خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں واقع مہمند ڈیم پر کنکریٹ پورنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے پر تعمیراتی کام میں نمایاں تیزی آ گئی ہے تاکہ اسے جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ منصوبہ آئندہ سال تک مکمل کر لیا جائے گا۔واضح رہے کہ مہمند ڈیم نہ صرف ایک پن بجلی منصوبہ ہے بلکہ یہ ایک کثیرالمقاصد پروجیکٹ بھی ہے، جس سے 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

ساتھ ہی یہ پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن صاف پانی مہیا کرے گا اور دریائے سوات میں ممکنہ سیلابی خطرات کو بھی کم کرے گا۔ اس کی 700 فٹ بلندی اسے دنیا کے سب سے اونچے ڈیموں میں شمار کرے گی، اور یہ اپنی نوعیت کا پانچواں بلند ترین ڈیم ہو گا۔چین کی جانب سے یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ معاہدہ 1960 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دریاؤں کا پانی تقسیم کیا گیا تھا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی معطلی سے پاکستان کو پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو اپنی 80 فیصد زرعی ضروریات کے لیے دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔

چین نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا، اور اسی تناظر میں ڈیم منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چین کا یہ مؤقف بھارت کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ کشمیر میں دہشتگرد حملے کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ پانی کا معاہدہ معطل کر سکتا ہے۔یہ تمام صورتحال جنوبی ایشیا میں آبی وسائل کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی طرف اشارہ کر رہی ہے، اور چین کے عملی اقدامات پاکستان کے لیے ایک مضبوط سفارتی اور معاشی سہارا بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…