بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے4ججزنےچیف جسٹس کوخط لکھ دیا

datetime 7  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)عدالت عظمٰی میں ججز تعیناتی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے 4 ججز نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیاجس میں کہا گیا ہے کہ کس کے ایجنڈے اور مفاد پر عدالت کو اس صورتحال سے دوچار کیا جا رہا ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کی سینیارٹی طے ہونے تک ججز تعیناتی روکی جائے۔

خط میں سپریم کورٹ کے سینئر پیونی جج جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ 26 ویں ترمیم کیس میں آئینی بینچ فل کورٹ کا کہہ سکتا ہے، نئے ججز آئے تو فل کورٹ کون سی ہو گی یہ تنازع بنے گا۔خط میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ججز ٹرانسفر ہوئے، آئین کے مطابق نئے ججز کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوبارہ حلف لازم تھا، حلف کے بغیر ان ججز کا جج ہونا مشکوک ہوجاتا ہے۔

ججز نے خط میں مؤقف اپنایا کہ اس کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ بدلی جا چکی، موجودہ حالات میں ججز لانے سے کورٹ پیکنگ کا تاثر ملے گا، پوچھنا چاہتے ہیں عدالت کو اس صورتحال میں کیوں ڈالا جا رہا ہے؟خط میں کہا گیا کہ کس کے ایجنڈے اور مفاد پر عدالت کو اس صورتحال سے دوچار کیا جا رہا ہے؟ججز نے مؤقف اپنایا کہ 26 ویں ترمیم کے فیصلے تک ججز تعیناتی مؤخر کی جائے، کم از کم آئینی بینچ سے فل کورٹ کی درخواست پر فیصلے تک تعیناتی مؤخر کی جائے۔

کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کی سینیارٹی طے ہونے تک ججز تعیناتی روکی جائے۔چار ججز نے خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں حالیہ ججز ٹرانسفر پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق ججز کا تبادلہ عارضی طور پر ہوسکتا ہے مستقل نہیں۔خط میں کہا گیا کہ ججز کا تبادلہ مقررہ وقت کے لیے ہی ہوسکتا ہے غیرمعینہ مدت کے لیے نہیں، مدت مقرر نہ ہونے کا مطلب ہے کہ تبادلے کا حکم کسی بھی وقت واپس لیا جا سکتا ہے۔ججز نے مؤقف اپنایا کہ تبادلہ اسی صورت ممکن ہے جب ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد پوری ہو، تبادلے کے بعد آئینی طور پر ججز حلف لینے کے بھی پابند ہیں، ججز کا حلف اسی ہائی کورٹ کے لیے ہوتا ہے، جس کے لیے انہیں تعینات کیا گیا ہو۔

خط میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ ججز کا حلف تمام ہائی کورٹس کے لیے نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئینی نکات بالائے طاق رکھتے ہوئے ازخود سینیارٹی کا تعین کر لیا۔ججز نے لکھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا سینیارٹی میں 15ویں نمبر کا جج اسلام آباد میں سینئر ترین جج بنا دیا گیا، آئینی بینچ اگر فل کورٹ کی درخواستیں منظور کرتا ہے تو فل کورٹ تشکیل کون دے گا؟ججز نے کہا کہ اگر فل کورٹ بنتی ہے تو کیا اس میں ترمیم کے تحت آنے والے ججز شامل ہوں گے؟ اگر نئے ججز شامل نہ ہوئے تو پھر سوال اٹھے گا کہ تشکیل کردہ بینچ فل کورٹ نہیں، اگر موجودہ آئینی بینچ نے ہی کیس سنا تو اس پر بھی پہلے ہی عوامی اعتماد متزلزل ہے۔خط میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عوام کو موجودہ حالات میں کورٹ پیکنگ کا تاثر مل رہا ہے، جاننا چاہتے ہیں کس کے ایجنڈا اور مفاد کے لیے عدالت کی تذلیل کی جا رہی ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…