جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

دھرنا ایک تحریک ہے جو جاری رہے گا، ہمارے سیکڑوں لوگ شہید اور زخمی کیے گئے، علی امین گنڈاپور کا دعویٰ

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

مانسہرہ (این این آئی)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پچھلے ڈھائی سال سے ہماری جماعت کے ساتھ فسطائیت اورجبر کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے، ہمارا لیڈر اس وقت جیل میں ہے، ان کی اہلیہ کو بھی جیل میں بند رکھا گیا، ایسی ظالمانہ روایت ڈالی گئی کہ جس کی مثال پاکستان تو کیا دنیا کی سیاسی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اسلام آباد میں پرامن احتجاج کرنے والے ہمارے سیکڑوں کارکن شہید کردیے گئے، سیدھی گولیاں ماری گئیں، سیکڑوں کارکن زخمی ہیں جن کا ٹرک ابھی آرہا ہے، شہدا کا ٹرک بھی ابھی آرہا ہے، ہزاروں کارکن اس وقت گرفتار ہیں، آخر ہمارے راستے میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کی گئیں، ہم پر تشدد نہ کیا جاتا تو ہمارے لوگ بھی جواب نہ دیتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کے لیڈرز اور کارکنوں کو بیرحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، یہاں تک کہ ہمارے ووٹرز کو بھی ہراساں کیا گیا، جب بھی ہم جلسہ کرنے کی اجازت مانگتے ہیں ہمیں اجازت نہیں دی جاتی، پرامن احتجاج کے لیے درخواستیں دیں تو کوئی جواب نہیں ملتا۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ دھرنا ایک تحریک ہے جو جاری ہے اور عمران خان کو نہیں چھوڑو گے تو یہ دھرنا جاری رہے گا، یہ دھرنا عمران خان کے اختیار میں ہے، ضروری نہیں ہے کہ ہر وقت دھرنے کے اندر عوام موجود ہوں، انہوں نے ہمارے لوگوں کو گولیاں ماریں لیکن میں سلام پیش کرتا ہوں پی ٹی آئی کے ورکرز کو جنہوں نے ہر پولیس اور فورسز کے اہلکاروں کو جانے دیا، کیونکہ اہلکاروں کو بھی احساس ہے کہ ان سے غلط کام کروایا جارہا ہے، وہ ہمارے بھائی ہیں، ہم پرامن تھے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے کارکن ہمارے بچے ہیں، ہم انہیں رہا کروائیں گے، جیسے پہلے بھی رہا کروایا تھا، ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ گولیاں کیوں برسائی گئیں۔انہوںنے کہاکہ مجھے وزیر اعلیٰ ہو کر انصاف نہیں ملتا تو عام آدمی کا کیا حال ہوتا ہوگا؟ پاکستانیو! سب سوچو، مجھے 9 مئی کے مقدمے میں نامزد کردیا جب کہ میری کوئی وڈیو یا تصویر تک کسی مقام پر نہیں ملی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ اب وڈیو دکھائیں گے، میں دہرا رہا ہوں کہ مجھ پر یہ پرچہ نہیں ہے کہ میں کہاں تھا، بلکہ یہ پرچہ ہے کہ میں موجود تھا، ایک گھنٹے میں 5 الگ الگ مقامات پر میں کیسے ہوسکتا ہوں؟ واضح کرتا ہوں کہ ہم پر تشدد نہ کیا جاتا تو ہم بھی جواب نہ دیتے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کچھ ناٹک کرنے والے میڈیا والے رکھے ہوئے ہیں، اس دوران کارکنوں نے سوشل میڈیا زندہ باد کے نعرے لگائے۔علی امین گنڈاپور نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے ہے، عمران خان ہمارے لیے جیل میں ہیں، ہم یہ قربانیاں دیتے رہیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…