اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کیخلاف جبر ختم کیا جائے،بنگلا دیش میں جو کچھ ہوا اس کی بڑی وجہ ظلم ہے، عمران خان

datetime 7  اگست‬‮  2024 |

راولپنڈی (این این آئی)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں پی ٹی آئی کے خلاف جاری جبر ختم کیا جائے، بنگلا دیش میں جو کچھ ہوا اس کی بڑی وجہ بھی ظلم ہے۔تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں 6وکلاء نے کانفرنس روم میں ایک گھنٹے طویل ملاقات کی، وکلا کے وفد میں انتظار پنجوتھہ، زبیر کسانہ، معظم بٹ، سہیل سلطان، سمیر کھوسہ اور ہارون ارشاد جنجوعہ شامل تھے۔

ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ایڈووکیٹ انتظار پنجوتھا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے صوابی جلسے پر کارکنان کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ 13اگست کو رات کو پاکستان کے جھنڈے لے کر باہر نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کیخلاف جبر کی پالیسی ختم کی جائے،بنگلا دیش میں جو کچھ ہوا اس کے پیچھے بڑی وجہ ظلم ہے۔

انتظار پنجوتھا کے مطابق عمران خان نے کہا کہ8 فروری کے الیکشن سے قبل جتنا بھی ظلم ہوا اس پر لوگ خاموش رہے، 9مئی کو جو بیانیہ بنایا گیا اس پر جواب الیکشن میں عوام نے دیا ،اب دھاندلی زدہ الیکشن پر عوام کو شدید غصہ تھا۔انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے ان فیصلوں پر نظر ثانی کریں، مہنگائی نے عوام کی معیشت کمزور کر دی ہے، بنگلا دیش کے حالات بھی اسی وجہ سے خراب ہوئے۔انتظار پنجوتھہ نے کہا کہ کرپشن پر بانی پی ٹی آئی کی پالیسی زیرو ٹالرنس ہے، خیبر پختون خواہ میں کرپشن پر کمیٹی بنا دی گئی وہ اس پر کام کرے گی، علی امین گنڈاپور خیبر پختونخواہ میں اچھا کام کر رہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…