جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

بندوق کے زور پر کسی کو حکمرانی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اسد قیصر

datetime 27  جون‬‮  2024 |

پشاور(این این آئی)سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ قبائل میں 21 آپریشن ہوئے حکومت نے کیا سہولیات دیں، امن کے لیے طریقے ہیں لیکن آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے اور کسی کو بندوق کے زور پر حکمرانی کی اجازت نہیں دیں گے۔ تحریک انصاف کی جانب سے منعقدہ قبائلی امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ واضع کرتا ہوں جب تک فاٹا میں امن قائم نہیں ہوتا ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا، قبائلی اضلاع میں 21 آپریشنز کیے گئے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں چھ اور سات فیصد ٹیکس کا فیصلہ کیا ہمارے احتجاج پر ٹیکس کا فیصلہ واپس لیا، وفاق نے قبائلی اضلاع کے لیے 64 ارب روپے مختص کیے جبکہ تنخواہوں کے اخراجات 128 ارب روپے بنتے ہیں، انضمام کے وقت وعدہ کیا گیا قبائلی کے لیے ہر سال سو بلین روپے دیں گے مگر تین فیصد این ایف سی ایوارڈ کے بھی نہیں دیے گئے۔

اسد قیصر نے کہا کہ قبائلی کا روزگار افغانستان سے ہے اب اس کی بھی اجازت نہیں دی جارہی، حکومت کا عوام کا احساس ہی نہیں ہے، کہتے ہیں اسمگلنگ ہورہی ہے تو کیا دنیا میں کسی بھی سرحد پر اسمگلنگ نہیں ہوتی؟ کبھی اسلام کے نام پر لڑتے ہیں اور کبھی گرم پانی کے لیے، یہ نہ اسلام کی لڑائی تھی اور نہ گرم پانی کی بلکہ سب مفادات کی جنگ تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پچاس سال پہلے والا امن اور سہولیات چاہیئیں، آج صحت، تعلیم روزگار کی سہولتیں نہیں دی، قبائلی اضلاع میں 21 آپریشن کر کے بھی کوئی سہولیات نہیں دی گئیں جبکہ امن، کتاب اور قلم چھین کر نوجوانوں کے ہاتھوں میں کلاشنکوف تھمائی گئی۔اسد قیصر نے کہا کہ ہماری لاشوں پر اب پھر آپریشن عزم استحکام کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آپریشن کے حوالے سے بحث کی جائے کیونکہ امن قائم کرنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں، بغیر مشاورت کے کسی صورت بھی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے آخری دم تک لڑیں گے، مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے بہت جلد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…