بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت پنجاب کا تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ فوجی اہلکاروں سے کرانے کا فیصلہ

datetime 29  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)حکومت پنجاب نے صوبے کے تعلیمی اداروں کی نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنانے کے لیے فوجی اہلکاروں کو مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفیسرز (MEOs) کے طور پر بھرتی کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد تقرریوں کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پنجاب کے 22 اضلاع میں یہ افسران تعینات کیے جائیں گے۔

مذکورہ بھرتیاں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے تحت ایک سالہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہوں گی، تاہم کارکردگی کی بنیاد پر معاہدے میں مزید توسیع کی گنجائش رکھی گئی ہے۔منتخب امیدواروں کو ماہانہ 60 ہزار روپے تنخواہ دی جائے گی، جبکہ محکمہ تعلیم کے قواعد کے مطابق دیگر ضروری سہولیات اور مراعات بھی فراہم کی جائیں گی۔ تعلیمی اداروں کی فیلڈ مانیٹرنگ کے لیے سرکاری موٹر سائیکل بھی فراہم کی جائے گی۔فوجی پس منظر رکھنے والے جی سی اوز اور این سی اوز سے درخواستیں 7 ستمبر تک طلب کی گئی ہیں۔

امیدوار کے لیے عمر کی حد 30 سے 55 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن ہونا ضروری ہے۔ درخواست دینے والے امیدوار کے پاس پنجاب کا ڈومیسائل بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔امیدواروں کے لیے آئی ٹی سے متعلق تجربہ رکھنے کے ساتھ جسمانی طور پر صحت مند ہونا بھی ضروری ہوگا۔

ابتدائی مرحلے میں مجموعی طور پر 28 مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفیسرز بھرتی کیے جائیں گے، جن میں 21 نشستیں فوجی اہلکاروں جبکہ 7 سویلین امیدواروں کے لیے مختص ہوں گی۔حکام کے مطابق پہلے مرحلے کی بھرتیوں کے بعد دیگر اضلاع میں تعیناتی کے لیے الگ سے بھرتی کا عمل شروع کیا جائے گا۔دوسری جانب محکمہ تعلیم پنجاب نے سرکاری اسکولوں میں ڈیلی ویجز اور عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے تقریباً ڈیڑھ لاکھ اسکول ٹیچنگ انٹرنیز (STIs) کے کنٹریکٹ میں بھی توسیع کی تجویز دی ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹیچنگ انٹرنیز کے موجودہ معاہدے میں مزید 9 ماہ کی توسیع کی سمری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو منظوری کے لیے ارسال کردی گئی ہے۔ مجوزہ توسیع کے بعد ان کا کنٹریکٹ مارچ 2027 تک جاری تعلیمی سیشن کے اختتام تک برقرار رہے گا۔سمری کی منظوری ملنے کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…