منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

بجٹ سے قبل آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے نئے مطالبات رکھ دیئے

datetime 6  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی) بجٹ سے قبل آئی ایم ایف کے نئے مطالبات سامنے آگئے، آئی ایم ایف نے وفاقی اور صوبائی اخراجات میں کمی سمیت ٹیکس آمدن کا ہدف 10 ہزار ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق بجٹ سے قبل پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان رابطہ ہوا

جس میں آئی ایم ایف نےوفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات میں کمی کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی پر ڈیڈ لاک برقرارہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا 14 جون تک کا نیا شیڈول جاری کر دیا گیا ، اسٹاف لیول معاہدہ تاحال نہ ہونیکے باعث پاکستان کا معاملہ شیڈول میں شامل نہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی پر ڈیڈ لاک برقرارہے، 6.5 ارب ڈالر کا قرض پروگرام رواں ماہ 30 جون کو ختم ہورہا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے بجٹ کے اہداف پر اختلاف رائے برقرار ہے۔حکومت 30 جون تک اسٹاف لیول معاہدے کیلئے پر امید ہے، سالانہ ٹیکس ہدف 9200 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے جب کہ آئی ایم ایف ٹیکس ہدف 9800 ارب روپے تک لے جانے پر زور دے رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…