عمران خان صاحب جتنی اوقات ہے اْتنی بات کریں،مریم اور نگزیب

  منگل‬‮ 13 ستمبر‬‮ 2022  |  17:35

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کو سیلاب میں ڈوبا ملک اور لوگ نظر نہیں آ رہے ، اقتدار کی پوس کی پٹی آنکھوں پہ بندھی ہے ،عمران خان کا حقیقی مسئلہ ذاتی انّا، تکبر خود پسندی، اقتدار کی ہوس اور کرپشن ہے،

عمران خان صاحب جتنی اوقات ہے اْتنی بات کریں، ’’کی جائے‘‘اور ’’کیا جائے‘‘ کا وقت ختم،عمران صاحب پہلے فیصلہ کریں آپ کا مسئلہ ہے کیا؟ بیرونی سازش ؟ حقیقی آزادی ؟ الیکشن کمشنر؟ کرپشن کا این آر او؟ ۔انہوںنے کہاکہ حقیقی آزادی نہیں بلکہ اپنی حقیقی کرپشن سے این آر او چاہتے ہیں،بیرونِ ملک سازش نہیں بلکہ اپنی فارن فنڈنگ کی حقیقی سازش سے این آر او چاہتے ہیں،عمران خان کا مقصد کوئی الیکشن نہیں بلکہ اپنے مقدمات ختم کرانا ہیں ۔انہوںنے کہاکہ عمران خان دھونس دھمکی گالی سے این آر او مانگ رہے ہیں ،عمران خان فرح گوگی اور بشریٰ بی بی کے لئے این آر او مانگ رہے ہیں ،عمران خان بیمار، شکست خوردہ ذہنیت اور کرپٹ انسان ہے ۔ مریم اور نگزیب نے کہاکہ عمران خان جھوٹا ، انّا پرست اور خود غرض بہروپیا ہے،عمران خان فارن فنڈنگ میں این آر او مانگ رہے ہیں ،الیکشن کمشنر نے آخر کیا گناہ کیا ہے؟ 8 سال سے زیرالتوا فارن فنڈنگ کیس میں فیصلہ ہی تو سْنایا ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ عمران صاحب آپ نے الیکشن کمشنر سے کس چیز کی گارنٹی لی تھی؟،عمران خان فارن فنڈنگ میں الیکشن کمشنر سے این آر او مانگ رہے تھے ،عمران صاحب الیکشن کمشنر پہ آپ کا غصہ ہے کیوں ؟ ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ عمران صاحب آپ کو الیکشن کمشنر کی کیا ، کس نے اور کیوں گارنٹی دی تھی ؟،امریکہ کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں اور امریکی فرم سے امریکہ میں لابی اور برانڈنگ کرواتے ہیں، چھْپ چھْپ کے ملاقاتیں کرتے ہیں۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎