امریکا کے ساتھ ہمارے بالکل ٹھیک تعلقات ہونے چاہئیں،عمران خان

  منگل‬‮ 13 ستمبر‬‮ 2022  |  14:27

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی کامران خان نے دنیا نیوز پر سابق وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو کیا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کامران یوسف نے اس انٹرویو کا ایک کلپ شیئر کیا اور لکھا کہ عمران خان کی رابن رافیل سے ملاقات کی تصدیق، کس پر اعتبار کریں، فواد چوہدری نے پہلے ملاقات کی تردید کی تھی، اس کلپ میں کامران خان نے سوال کیا کہ آپ کی جو بات چیت ہو رہی ہے

اس میں کوئی اچھی خبر ہے آپ اس سے مطمئن ہیں، جس پر عمران نے کہا کہ میری تو ابھی رابن رافیل سے جنہیں میں پرانا جانتا ہوں وہ اصل میں امریکن گورنمنٹ کے ساتھ بھی ہیں اور ان کے تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی ہیں،امریکا کے ساتھ ہمارے بالکل ٹھیک تعلقات ہونے چاہئیں۔خیال رہے کہ معروف صحافی کامران خان نے دنیا نیوز پر سابق وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو کیا، جس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ 85 سیٹوں والا مفرور کیسے آرمی چیف سلیکٹ کر سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر مخالفین الیکشن جیت جاتے ہیں تو پھر آرمی چیف کا انتخاب کر لیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں،ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے منتخب ہونے تک جنرل قمر باجوہ کو عہدے پر توسیع دی جائے۔ انٹرویو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے معروف صحافی کامران خان نے کہا کہ عمران خان بات چیت کے لئے تیار ہیں، وہ الیکشن کے حوالے سے ہر قسم کی بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 85 سیٹوں والا مفرور کیسے آرمی چیف سلیکٹ کر سکتا ہے؟ اگر مخالفین الیکشن جیت جاتے ہیں تو پھر سپہ سالار کا انتخاب کر لیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں، نئی حکومت کے منتخب ہونے تک جنرل قمر باجوہ کوعہدے پر توسیع دی جائے،اپنی صوبائی حکومتوں سے استعفے دینے کا آپشن ہے،ملک میں سیاسی استحکام صرف الیکشن سے آ سکتا ہے،جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا تب تک معاشی استحکام نہیں آسکتا،معاشی استحکام نہ آیا تو مجھے خوف آرہا ہے، خدشہ ہے قرض دینے والے ممالک ہماری نیشنل سیکیورٹی کو کمزور کر دیں گے،ایک کام بھی آئین و قانون کے خلاف نہیں کیاآئین و قانون کے دائرے میں رہ کر ہی احتجاج کریں گے،

حالات کوسری لنکا کی طرح کرنا کوئی مشکل کام نہیں،چیف الیکشن کمیشن کا نام تسلیم کر کے بہت بڑی غلطی ہوگئی،دھاندلی سے راولپنڈی، مظفر گڑھ کی سیٹ ہمیں ہرا دی گئی،عدالت میں اپنا جواب دوں گا، کبھی عدلیہ کی توہین نہیں کرسکتا،بارشوں کی وجہ سے کوہ سلیمان کی طرف سے سیلاب آیا، سندھ کے اندر کھڑے پانی کی وجہ سے چاول کی فصل تباہ ہوگئی،

آگے جا کر فوڈ سکیورٹی کا بھی مسئلہ آسکتا ہے، پوری قوم کو مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہو گی،چاہتا ہوں امریکا کیساتھ تعلقات اچھے ہوں،صرف پاکستان کو کسی کی جنگ میں استعمال نہ کیا جائے، ہمیں کسی کی طرف جھکاؤ نہیں رکھنا چاہیے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں عمران خان نے کہاکہ سیلاب کے دوران بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے، بارشوں کی وجہ سے کوہ سلیمان کی طرف سے سیلاب آیا،

سندھ کے اندر کھڑے پانی کی وجہ سے چاول کی فصل تباہ ہوگئی، آگے جا کر فوڈ سکیورٹی کا بھی مسئلہ آسکتا ہے، پوری قوم کو مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہو گی، پاکستان کواس وقت اندرونی وبیرونی امداد کی ضرورت ہے، 50 سال میں ملک میں کوئی ڈیم شروع نہیں کیا گیا، فخر ہے میری حکومت میں پہلی دفعہ 10 ڈیمزشروع کیے گئے، کوہ سلیمان کے پانی نے زیادہ تباہی مچائی، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں تباہی ہورہی ہے،

ہماری حکومت نے اسی لیے بلین ٹری سونامی شروع کیا تھا، ملک میں پْرانے جنگلوں کو ختم کر دیا گیا، بے دردی کے ساتھ ملک میں جنگلات کوختم کیا گیا، 10 بلین ٹری بہت ضروری ہے، پانی کی ڈرینج بنانا ہو گی اگر پانی کو راستہ نہیں دیں گے توتباہی مچائے گا، کراچی میں نالوں کے اوپرگھربن گئے، سندھ میں بڑے، بڑے طاقتور اپنی زمینیں بچانے کے لیے دوسری طرف پانی چھوڑ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جتنا بڑا سیلاب امتحان اتنا ہی معیشت کے حوالے سے بھی امتحان آرہا ہے،

پاکستان کا بانڈ آج 50فیصد تک پہنچ گیا، پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے، بجلی، پٹرول، ڈیزل کی قیمت اوپر جا رہی ہے، مجھے خوف ہے جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا تب تک معاشی استحکام نہیں آسکتا، اگرمعاشی استحکام نہ آیا تو مجھے خوف آرہا ہے، خدشہ ہے قرض دینے والے ممالک ہماری نیشنل سیکیورٹی کو کمزور کر دیں گے، ملک میں سیاسی استحکام صرف الیکشن سے آ سکتا ہے، اگر پاکستان ڈیفالٹ ہو گیا تو زیادہ مسائل پیدا ہوں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت میں ڈالر178اورچھ فیصد گروتھ تھی، ہمارے دورمیں ریکارڈ ٹیکس اکٹھا ہورہا تھا، بیرون ملک سے پاکستانیوں نے31ارب ڈالر بھیجے، ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا، تب سازش کرکے حکومت گرائی گئی،

جن کے پاس سب سے زیادہ طاقت ان کو خبردار کیا تھا، ہم نے کہا اگر اس وقت عدم استحکام آیا تو کسی سے بھی معیشت نہیں سنبھالی جائے گی، ان کے پاس معیشت سنبھالنے کا کوئی پلان نہیں تھا، یہ لوگ صرف اپنے کیسز کو ختم کروانا چاہتے تھے،

آئی ایم ایف نے ان پر زور لگایا تو انہوں نے قیمتیں بڑھا دیں، ہماری حکومت بھی آئی ایم ایف پروگرام میں تھی لیکن عوام کوسبسڈی دی، موجودہ حکومت سے معاشی حالات نہیں سنبھالے جارہے، عالمی اداروں نے پاکستان کی ریٹنگ کونیچے کردیا ہے، پاکستان سنگین دیوالیہ ہونے کی طرف گامزن ہے،

الیکشن سے سیاسی استحکام آئے گا تو پھر معاشی استحکام بھی آئے گا۔ عمران خان نے کہا کہ 26سال سے سیاست میں ہوں ایک کام بھی آئین وقانون کے خلاف نہیں کیا، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر ہی احتجاج کریں گے،۔

انہوں نے کہاکہ سیلاب کا فال آؤٹ سردیوں میں آئے گا، قرضے بڑھتے جا رہے ہیں اورملک کی ایکسپورٹ گررہی ہے، ملک میں بیروزگاری بڑھے گی، بجلی مہنگی ہو گئی ہے لوگ بجلی کے بل نہیں دے سکتے، آئی ایم ایف کہہ رہا ہے پاکستان کے حالات سری لنکا کی طرف جا رہے ہیں،

اس وقت سب سے بہترآپشن صاف اورشفاف الیکشن کا ہیانہوں نے کہا کہ اچھی بھلی حکومت کو گرانے میں جو بھی لوگ شامل ہیں انہوں نے پاکستان کے ساتھ بہت بڑی غداری کی، تیس سال سے دوخاندان حکومت کررہے ہیں،

دو خاندانوں کی وجہ سے آج بنگلادیش بھی پاکستان سے آگے نکل گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مشرف کے بعد دو خاندانوں نے چار گنا ملک کا قرضہ بڑھایا، جو لوگ ان کو سازش کرکے لیکر آئے کیا یہ سب ذمہ دارنہیں؟ ہماری حکومت میں یہ لوگ مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کرتے تھے،

آج ملک میں مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، جو بھی اگلی حکومت آئے گی اس کے لیے مسائل کے پہاڑ چھوڑ کر جائیں گے، 5 سال کے لیے تگڑی حکومت آئے گی تو پھرمعاشی استحکام آئے گا، جو کچھ نظر آ رہا ہے سارے پاکستانی پریشان ہیں،

روپے کی قدرمسلسل گرتی جارہی ہے، خوف آرہا ہے جدھرپاکستان جارہا ہے حالات پھرسب کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ اللہ مجھے اتنی مقبولیت دے گا، بڑے، بڑے شہروں میں عوام کا ایسا جوش و جنون نہیں دیکھا، مجھے تو حکومت کی ہر کوشش سے فائدہ ہو رہا ہے،

مشرف دور میں بھی ایسا ظلم، فاشزم نہیں دیکھا تھا، لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے، گمنام نمبروں سے لوگوں کو فون جا رہے ہیں، کل ٹیلی تھون میں کیبل آپریٹرزکو دھمکیاں دی گئیں، میری مقبولیت تو بڑھتی جارہی ہے لیکن معاشی حالات سے ڈر آرہا ہے،

اگر یہ ملک میں استحکام لے آتے تو انتظارکرلیتا، آئی ایم ایف کہہ رہا ہے پاکستان کی عوام سری لنکا کی طرح باہرآسکتی ہے، موجودہ حکومت کی ہر چیز ناکام ہو رہی ہے، بیرون ملک سرمایہ کاروں کو بھی اس حکومت پر اعتماد نہیں، عالمی ادارہ کے مطابق سردیوں میں گیس کی قیمت 250 فیصد بڑھنے والی ہے،

بہترین آپشن ملک میں الیکشن کرایا جائے تاکہ سیاسی استحکام آجائے، ہمارے پاس اپنی تمام حکومتوں سے استعفے دینے کا آپشن ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ 25 مئی کو ہمارے ہزاروں کارکنوں پر تشدد کیا گیا،

میرے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کیسز کیے جا رہے ہیں، ایک طرف کہتے ہیں سارے مل کر کام کریں، دوسری طرف ہمیں دیوار سے لگا رہے ہیں انہوں نے اپنے 1100 ارب معاف کرا لیے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جب چاہوں قوم کو سڑکوں پرنکال سکتا ہوں، میری دو گھنٹے کی کال پر سڑکوں پر لوگ آجاتے ہیں،

عام آدمی کا بْرا حال ہے اب لوگوں کو نکالنا کوئی مشکل کام نہیں، خود فیصلہ کیا ہے ملک مشکل حالات میں ہے ، پرامن احتجاج کر کے گھر چلے جاتے ہیں، لاوا توپکا ہوا ہے اس تحریک کو ٹرن آؤٹ کیا جاسکتا ہے،

حالات کوسری لنکا کی طرح کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمیشن کا نام تسلیم کر کے بہت بڑی غلطی ہوگئی، اسٹیبلشمنٹ نے گارنٹی دی تھی لیکن چیف الیکشن کمشنر ہمارے خلاف کوئی موقع نہیں چھوڑتا، دھندلی سے راولپنڈی، مظفر گڑھ کی سیٹ ہمیں ہرا دی گئیں،

ای وی ایم مشین کو چیف الیکشن کمشنر نے سبوتاژکیا، ملک میں اگر شفاف الیکشن کرانا ہے تو ووٹنگ مشین سے کرانے ہونگے، چیف الیکشن کمشنر نے ووٹنگ مشین کی کھل کرمخالفت کی۔

عمران خان نے کہا کہ ایاز میر جیسے دانشوروں کو ذلیل کیا گیا، دو ٹی وی چینلز کو بند کیا گیا، شہباز شریف سے سوال پوچھا ہے کیا یہ سب تم کررہے ہو، اگر شہباز شریف چینلز کو بند نہیں کر رہے تو بتاؤ کون کر رہا ہے؟، دھاندلی کے باوجود یہ پنجاب کا ضمنی الیکشن ہار گئے،

سوات میں بھی ساری پارٹیاں بری طرح الیکشن ہار گئے، ان کو خوف ہے جب بھی الیکشن ہو گا انہوں نے ہار جانا ہے، مہنگائی بڑھنے سے ان کیخلاف نفرتیں بڑھتی جارہی ہے، ہمارے پاس دو، تین آئیڈیازہیں آئین کے اندر رہ کر ان پرپشرڈالیں گے، جب سے یہ حکومت آئی کسی ایک چیزکا بتادیں جوبہترہوئی ہو۔

سابق وزیراعظم نے کہاکہ جو قومیں ترقی کر رہی ہیں ان کا میرٹ کا نظام بہترہے، چین کی ترقی کی بڑی وجہ میرٹ کا سسٹم ہے، میں نے کہا تھا آرمی چیف کی تقرری میرٹ پرہونی چاہیے، کہا تھا نوازشریف، زرداری تقرری کیلئے کوالیفائیڈ نہیں، نوازشریف مفرور،

زرداری کے کرپشن پر عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا، ان کی ایک ہی سوچ اپنا پیسہ بچانا ہے، میری حکومت گرا کر انہوں نے 1100 ارب بچائے۔شہبازشریف پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 85 سیٹوں والا مفرور کیسے آرمی چیف سلیکٹ کر سکتا ہے؟

یہ لوگ بیرونی سازش کے تحت آئے، اگر یہ ووٹ کے ذریعے مینڈیٹ لیکر آئیں تو سلیکٹ کر سکتے ہیں، نئی حکومت کے منتخب ہونے تک آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کوعہدے پر توسیع دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کہا تھا یہ دونوں کریمنلز ہیں،سب کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہوں لیکن پہلے الیکشن کی بات ہو گی،

الیکشن کا نام سن کر ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے، ان سے بات کیا کروں ؟۔انہوں نے کہا کہ میری بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں نا بیرون ملک بھاگنا ہے، یہ لندن کے مہنگے علاقوں میں رہتے ہیں، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے،

جتنی دیریہ حکومت رہے گی اتنا ہی حالات خراب ہوں گے، اگرپاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ ہوگیا توپتا نہیں کتنے سال ملک کوٹریک پرلانے میں لگیں گے، ان کے ہوتے ہوئے سیاسی استحکام ہی نہیں آسکتا، اگر فری اینڈ فیئرالیکشن کرنے کے لیے تیار تو بات چیت کے لیے تیار ہوں،

سندھ میں سیلاب ہے وہاں کا الیکشن میں دوماہ تک تاخیر ہو سکتی ہے، یہ الیکشن جیت جائیں توپھراپنا آرمی چیف سلیکٹ کر لیں پھرکوئی مسئلہ نہیں۔ انہوںنے کہاکہ مغربی دنیا کی سوچ کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا، شہبازشریف سیکرٹری جنرل کے ساتھ گفتگومیں عجیب باتیں کررہا تھا،

وزیراعظم کی 60 فیصد کابینہ ضمانت پر ہے، فیکٹ آئی پینل نے دنیا میں ریسریچ کی ایلیٹ پیسہ چوری کر کے مغربی ممالک بھیجتی ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے ڈونلڈ ٹرمپ سے بڑے اچھے تعلقات تھے، میرا امریکا سے کوئی مسئلہ نہیں، امریکا کی جنگ میں شرکت کر کے ہمیں ذلت ملی،

میوچل ریسپکٹ پر امریکا سے تعلقات چاہتا ہوں، واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے چاہئیں، امریکا میں ہماری بڑی طاقتور کمیونٹی ہے، امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہوں، صرف پاکستان کو کسی کی جنگ میں استعمال نہ کیا جائے، ہمیں کسی کی طرف جھکاؤ نہیں رکھنا چاہیے،

امریکا کی غلامی نہیں دوستی چاہتا ہوں، روس کا دورہ کیا اسی کے بعد جنگ شروع ہو گئی ادھرسے ٹینشن شروع ہوئی، روس کے دورے کے بعد روس، یوکرین جنگ شروع ہو گئی، مجھے کیا پتا تھا کہ روس، یوکرین کی جنگ شروع ہوجائے گی، دوطرفہ تعلقات اونچ نیچ ہوتی ہے اور مسائل حل ہوجاتے ہیں،

امریکا سے جب تجارت ہو گی تو پاکستان کو فائدہ ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ یورپی یونین سے میرے بڑے اچھے تعلقات تھے، بورس جانسن، ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بڑے اچھے تعلقات تھے، امریکی دورے میں ٹرمپ نے مجھے بہت عزت دی، امریکی جن کے پیسے باہر ہوں ان کی وہ عزت نہیں کرتے،

امریکا سے تھوڑی ناراضگی ہوئی کوئی اینٹی امریکن نہیں ہوں، میرا کام پاکستان کے مفاد کو تحفظ کرنا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت میں مجھے موقع ملتا تو جو وہ چاہتے تھے وہ بات شائد کہہ دیتا، شہباز گل کو اغوا کر کے مار مار کر بھرکس نکال دیا گیا،

پی ٹی آئی رہنما نے میسج بھیجا اب برداشت نہیں کرسکتا، کہا جا ہا ہے عمران خان کے خلاف بیان دو، ٹی وی پرشہبازگل کی فوٹیج دیکھی تو کہا جن لوگوں نے واپس ریمانڈ پر بھیجا ان کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، اس بیان کے بعد میرے اوپر دہشت گردی کا کیس بنا دیا گیا، کیا یہ دہشت گردی ہے؟

میں نے تو آزاد عدلیہ کے لیے جیل کاٹی ہے، عدالتوں کا ہمیشہ احترام کیا ہے، عدالت میں اپنا جواب دوں گا، کبھی عدلیہ کی توہین نہیں کرسکتا۔عمران خان نے کہاکہ مجھے تو موجودہ صورتحال سے فائدہ ہو رہا ہے، الیکشن کی جلدی نہیں، ملک تیزی سے نیچے کی طرف جا رہا ہے، اگر ملک ڈیفالٹ کر گیا

تو پھرحالات سب کے ہاتھ سے نکل جائیں گے تو پھر حالات کسی سے بھی نہیں سنبھالے جائیں گے، کسی کے پاس الیکشن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ الیکشن سے سیاسی استحکام آئے گا۔ قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس میں عمران خان نے شہباز شریف سے متعدد سوال پوچھے۔

جن میں انہوں نے لکھا کہ شہباز شریف سیمیرا سوال: کیا تحریک انصاف کے خوف کی وجہ سے میڈیاپر ہماری زباں بندی، اہلِ صحافت پر تشدد اور ان کے خلاف جھوٹے مقدموں کے اندراج، ٹی وی اور یوٹیوب پر مجھے اور تحریک انصاف کو بلیک آؤٹ کرنے اور میری فلڈریلیف ٹیلی تھون کی نشریات روکنے جیسی مذموم کوشش کے آپ ذمہ دار ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کے مجرم حواری اورانکے سرپرست تحریک انصاف کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں،اگر آپ ہماریآئینی حقوق غصب کرنیاور اظہاروصحافت کی آزادی کے حوالے سے عالمی وعدوں سے انحراف کے ذمہ دار نہیں

تو قوم کو یہ بتانا آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟پی ٹی آئی چیئر مین نے لکھا کہ مجرموں پر مشتمل امپورٹڈ حکومت ان کے سرپرستوں نے گزشتہ شب سیلاب متاثرین کیلئے عطیات جمع کرنے کے حوالے سے منعقدہ میری ٹیلی تھون کی نشریات رکوا کر نئی سطح تک گراوٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔

پہلے انہوں نے چینلز پر ٹیلی تھون نہ دکھانے کے حوالے سے دباؤ ڈالا،اس کے باوجود جب چند چینلز نے نشریات جاری رکھیں تو انہوں نے کیبل آپریٹرز کو دھمکایا۔عمران خان نے کہاکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم میں ہماری بڑھتی ہوئی مقبولیت سے یہ کس قدرخوفزدہ ہیں،

انہیں یہ بھی عِلم ہے لوٹ مار کی طویل تاریخ کے باعث پیسوں کے معاملے میں کوئی ان پر اعتماد کو تیار نہیں، چنانچہ مجھے اور میری جماعت کو نشانہ بنانے کیلئے انہوں نے سیلاب متاثرین کیلئے عطیات جمع کرنیکی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ بے حسّی ناقابلِ تصوّر ہے،

اس سب کے باوجود ہم محض دو گھنٹوں میں 5.2 ارب روپے جمع کرنے میں کامیاب رہے،میں دیارِغیرخصوصاًامریکہ میں مقیم پاکستانیوں سمیت عطیہ کرنے والے ہر ایک فرد کا مشکور ہوں۔

دریں اثناء پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک شدید بدترین معاشی بحران کے نرغے میں ہے، ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف فوری طور پر متبادل معاشی منصوبہ تیار کرے، لازم ہے مضبوط معیشت کیلئے اپنی تجاویز قوم کے سامنے رکھیں۔اجلاس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے قیادت کو کرنسی کی صورت حال سے آگاہ کیا۔

عمران خان نے قائدین کو معاشی بحالی کی حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں عمران خان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آئندہ چند ماہ میں ملکی معیشت کو سنگین صورت حال کا سامنا ہوگا۔ بنی گالا میں ہونے والے اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال، معیشت اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎