اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

پی ٹی آئی حکومت جان لیوابیماری، نجات دلانے کابیڑہ مولانا نے اٹھایاہے،حافظ حمداللہ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن ) حکومت مخالف اتحاد کے ترجمان حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت سلیکٹیڈ امپورٹیڈ،سیاسی خانہ بدوشوں، اورزرخریدسیاسی لوٹوں کاہجوم ہے۔فرخ حبیب جیسے کرائے کے ٹٹو کی اوقات مولانافضل الرحمن کے جو تے جتنی بھی نہیں وہ بھی مولانا پربھونکتے ہیں، کالیا،تمہیں توبھونکنے کیلئے ہی رکھاہے۔ وزراء کے بیانات پر رد عمل دیتے ہوئے

پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سلیکٹیڈ امپورٹیڈ،سیاسی خانہ بدوشوں، اورزرخریدسیاسی لوٹوں کاہجوم ہے ناکام حکومت،ناکام حکمران،ناکام سیاستدان،ساڑھے تین سال سے قوم پرمسلط کیاگیاہے جو،امپائر،کی انگلی کے سہارے کھڑی ہے بدتمیزی،گالم گلوچ،سیاسی قائدین کی پگڑی اچھالنا اور دھٹرلے سے جھوٹ بولناپی ٹی آئی کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے کرائے کے ترجمان آئے روزمولانافضل الرحمن پربے جاتنقیدکرکے اپنی ناکامیوں کوچپھانے کی ناکام کوشش ہے،مولانافضل الرحمن کی سیاست کے بغیرپاکستان کی سیاست نامکمل ہے فرخ حبیب کرائے کے،ٹٹو،جن کی مولانافضل الرحمن کے جو تے جتنی اوقات نہیں وہ بھی مولانا پربھونکتے ہیں،بھونکتے رہوجتنابھونک سکتے ہو،کالیا،تمہیں توبھونکے کیلئے ہی رکھاہے ساڑھے تین سال میں قوم اورملک کوحکومت نے تباہی ،بربادی،کے سواکچھ نہیں دیا جھوٹی حکومت کے جھوٹے ترجما نوں جتناجھوٹ بول سکتے ہوبول اب عمران خان سمیت تمہارے سیاسی موت کاوقت آن پہنچاہے پاکستان کی سیاست میں اب سیاسی لوٹوں اورموسمی پرندوںکی کوئی گنجائش نہیں ہے پی ٹی آئی حکومت ایک زہریلااور مہلک بیماری ہے جوساڑھے تین سال سے ملک اورقوم کولاحق ہے اس،جان لیوا،بیماری سے قوم اورملک کونجات دلانے کابیڑہ پی ڈی ایم کی پلیٹ فارم سے مولانافضل الرحمن نے اٹھایاہے مولانافضل الرحمن عمران خان اوران کی پوری ٹیم کیلئے ڈراوناخواب بن چکاہے مولاناپارلیمنٹ سے باہرہوکربھی پاکستان کی سیاست مولانافضل الرحمن سے شروع ہوتی ہے اورمولاناپرہی ختم ہوتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…