جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

خیبرپختونخوا کے زلزلہ زدہ علاقوں میں سکولوں کی عدم تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے  خیبرپختونخوا کے زلزلہ زدہ علاقوں میں سکولوں کی عدم تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔ عدالت عظمی نے ارتھ کوئیک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی ( ایرا ) کو تمام زیرتعمیر منصوبے جون 2022ئ￿ تک مکمل کرنے

کا حکم دیدیا۔عدالت عظمی نے  کے پی کے  حکومت سے پیشرفت رپورٹ اور  تعمیر شدہ سکولوں میں طلبہ و اساتذہ کی تفصیلات  طلب کر لیں۔ دوران  سماعت  چیئرمین ایرا نے موقف اپنایا کہ 14 ہزار منصوبے مکمل کرنا تھے صرف تین ہزار رہ گئے ہیں۔ اس دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین ایرا سے استفسار کیا کہ  جو منصوبے رہ گئے وہ کونسے ہیں۔ جس پر چیئرمین ایرا نے عدالت کو بتایا کہ تعلیم اور صحت کے منصوبے مکمل ہونا رہ گئے ہیں،تعلیم اور صحت ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین ایرا کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تعلیم اور صحت آپکی ترجیح ہوتے تو آج منصوبے  مکمل ہوتے، زلزلہ متاثرہ علاقے تو ایک سال میں ہی بن جانے چاہیے تھے،جن سکولوں کی تصاویر دی گئی ہیں وہ غیر فعال لگتے ہیں،  ایرا افسران صرف تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں،آپ کے اپنے بچے سکول سے محروم ہوتے پھر آپ کام کرتے۔اس دوران جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ حکومتوں کی غفلت نے تعلیم کو صنعت بنا دیا ہے،پہلے آٹھ روپے کالج کی فیس ہوتی تھی اب چھوٹے بچے کی 30 ہزار روپے ہے،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مفت تعلیم فراہم کرے،کے پی کے  حکومت ایرا کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہ کرے۔ دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے عدالت کو بتایا کہ اب تک 540 میں سے 238 سکول مکمل کر چکے ہیں۔ عدالت عظمی نے  کے پی کے  حکومت سے پیشرفت رپورٹ اور  تعمیر شدہ سکولوں میں طلبہ و اساتذہ کی تفصیلات  طلب کر تے ہوئے معاملہ پر سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ  نے  ایرا  کو تمام زیرتعمیر منصوبے جون 2022ئ￿ تک مکمل کرنے کا حکم بھی  دیدیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…