بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیرِ اعظم نے احساس تعلیمی وظائف پروگرام کا اجراء کردیا

datetime 1  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے احساس تعلیمی وظائف پروگرام کا اجراء کردیا اور کہا ہے کہ ملک میں 2 کروڑ بچوں کا اسکول نہ جانا بہت بڑا المیہ ہے، احساس پروگرام اس مسئلے کا حل پیش کررہا ہے جس کے تحت بچوں کو اسکولز میں لانے کی کوشش کی جائے گی

احساس تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت معاشرے کے غریب اور نادار گھرانوں کے بچوں کو پرائمری، سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری تعلیم کے لیے وظائف دیے جائیں گے۔ بدھ کو یہاں احساس تعلیمی وظائف پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہورںنے کہاکہ ہم نے جو یہ پروگرام لانچ کیا ہے اس کے 2 اہم پہلو ہیں، پہلا یہ کہ ملک میں اسکول نہ جانے والے 2 کروڑ بچوں کو بنیادی تعلیم دی جائے کیوں کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا اسکول نہ جانا بہت بڑا المیہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ پروگرام اس مسئلے کا حل پیش کررہا ہے جس کے تحت بچوں کو اسکولز میں لانے کی کوشش کی جائے گی، یہ مسئلہ زیادہ تر غریب گھرانوں میں ہوتا ہے اس لیے انہیں معاوضے اور مراعات دی جائیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اسکول نہ جانے والے بچوں میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے، ہم نے تعلیم کو اہمیت نہیں دی لیکن خاص کر لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ہمارا اتنا بڑا اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ایک تعلیم یافتہ خاتون، ایک مرد سے زیادہ معاشرے کو فائدہ پہنچاتی ہے کیوں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دیتی ہے، گھر کا نظام بدل دیتی ہے اور گھر میں بچوں کی صحت اور بہتر دیکھ بھال کا معاشرے پر بہت اثر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام میں لڑکیوں کو زیادہ مراعات دی گئی ہیں، لڑکوں کے لیے تعلیمی وظیفہ ڈیڑھ ہزار روپے جبکہ لڑکیوں کے لیے 2 ہزار روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں یہ تاثر ہے کہ گویا ہم اپنی بچیوں کو پڑھانا نہیں چاہتے ایسا بالکل نہیں ہے، میں پاکستان کے تمام علاقوں میں گیا ہوں، شاید ہی کسی نے پاکستان کو اس طرح دیکھا ہو جو میں نے دیکھا ہے، ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم نہ دلوانا چاہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم میں مختلف مسائل حائل ہوتے ہیں، کئی مرتبہ اسکولز دور ہوتے ہیں یا ان میں اساتذہ ہی نہیں ہوتے لیکن حکومت کی ذمہ داری تھی کہ سہولیات فراہم کی جاتیں جو نہیں کی گئیں، میں خاص طور پر سراہتا ہوں کہ ہمیں لڑکیوں کو اسکولز آنے کی ترغیب دینی چاہیے۔احساس تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت معاشرے کے غریب اور نادار گھرانوں کے بچوں کو پرائمری، سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری تعلیم کے لیے وظائف دیے جائیں گے۔اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق یہ پروگرام ملک بھر کے تمام اضلاع میں شروع کیا جائے گا، پروگرام کو احساس وظائف پالیسی کے تحت مرتب کیا گیا ہے جس میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کے لیے زیادہ وظیفہ مختص کیا جائے گا۔احساس تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت پرائمری اسکول کے لڑکوں کے لیے 15سو روپے جبکہ لڑکیوں کے لیے 2 ہزار روپے وظیفہ سہ ماہی بنیادوں پر دیا جائے گا۔سیکنڈری اسکول کے لڑکوں کو 2500 روپے اور لڑکیوں کو 3 ہزار جبکہ ہائیر سیکنڈری سطح کے لڑکوں کو ساڑھے 3 ہزار اور لڑکیوں کو 4 ہزار سہ ماہی وظیفہ ملے گا۔یہ وظائف ان بچوں کی ماؤں کو بائیو میٹرک کے ذریعے دیے جائیں گے جن کی اسکول میں حاضری 70 فیصد ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…