سینیٹ انتخابات 7 ووٹ ضائع ہونے کی اندورنی کہانی تہلکہ خیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 4 مارچ‬‮ 2021  |  10:39

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کے درمیان ہونے والے سینیٹ الیکشن میں 7 ووٹ ضائع ہونے کی اندورنی کہانی سامنے آگئی۔جیو نیوز کے مطابق سینیٹ الیکشن میں ایک بیلٹ پیپر پر ووٹر نے دستخط کیے، 4 بیلٹ پیپرز پر ووٹرز نے گنتی کے نمبر لکھنے کی بجائے ٹک کیا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونےوالے سینیٹ انتخاب میں 2 بیلٹ پیپرز پر امید واروں کے نام کے آگے نمبر 1 یا 2 لکھنے کی بجائے صرف 2 لکھا گیا۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ پولنگ ایجنٹوں کے اصرار پر ووٹوں کی


دوبارہ گنتی کرائی گئی، جبکہ ریٹرننگ آفیسر کے مرتب کردہ نتائج پر پولنگ ایجنٹوں نے دستخط کیے ،یاد رہے گزشتہ روز سینیٹ الیکشن کی 37 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے 13، پیپلز پارٹی نے 8، بی اے پی نے 6، ایم جے یو آئی نے تین، کیو ایم پاکستان اور اے این پی اور آزاد امیدواروں نے دو، دو جب کہ بی این پی نے ایک ایک نشست حاصل کی۔اس کے علاوہ پنجاب سے 11 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے جن میں پی ٹی آئی کے 5، ن لیگ کے 5 اور ق لیگ کا ایک سینیٹر شامل ہے۔دوسری جانب سابق صدر آصف علی زر داری نے کہا ہے کہ 5 ووٹوں سے یوسف رضاگیلانی کی کامیابی کم ہے ،یوسف رضا گیلانی کیلئے مجھے زیادہ ووٹوں کی امیدتھی۔میڈیا کو جاری بیان میں آصف زردرای نے کہا کہ 5 ووٹوںسے یوسف رضاگیلانی کی کامیابی کم ہے ،یوسف رضا گیلانی کیلئے مجھے زیادہ ووٹوں کی امیدتھی۔آصف زرداری نے کہا کہ ہماری20ووٹوں سے جیت ہونی چاہیے تھی ۔ انہوںنے کہاکہ کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے میں نے کہا انہیں بھگاؤ۔انہوں نے کہاکہ یوسف گیلانی کوچیئرمین سینیٹ بنانے کیلئے پی ڈی ایم فیصلہ دے گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎