جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

تمام تعلیمی اداروں کی بندش کے بعدکاروباری مراکزسے متعلق حکومت کا بڑا اعلان ، تاجروں نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)ملک بھر میں کوروناوائرس کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر دوسرے فیز میں کارباری مراکز بھی جلد بند کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس فیصلے کا اطلاق تھوک ، سیل اور پرچون کی دکانوں پر بھی ہوگا۔ حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا

ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہورہا، یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ لوگ جلد گھروں میں واپس جائیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔دوسری طرف لاہورچیمبر ز اور دیگر ایسوسی ایشنز نے خط لکھاکہ فیصلہ کاروبار کے مفاد میں نہیں اور موقف اپنایا کہ رش بڑھے گا، ایس او پیز پر عمل درآمد کیلئے تیار ہیں لیکن شام آٹھ بجے تک کا وقت دیاجائے ۔ ذرائع نے بتایا کہ آج حکومتی نمائندگان کا متعلقہ سٹیک ہولڈرز کیساتھ اجلاس ہوگا جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔دریں اثنا نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ 2 ہفتے کے دوران ملک میں کووِڈ 19 کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے کی شرح دگنی ہوگئی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیسز کے مثبت آنے کی شرح 7.46 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 22 نومبر کو ملک میں 2 ہزار 756 کیسز ریکارڈ کیے گئے جس کے نتیجے میں مثبت کیسز کی شرح 7.46 فیصد ہوگئی۔این سے او سی کو

بتایا گیا کہ آزاد کشمیر میں کووِڈ 19 کی مثبت شرح سب سے بلند 11.45 فیصد ہے جس کے بعد خیبر پختونخوا میں 9.8 فیصد، سندھ میں 9.63 فیصد، بلوچستان میں 7.73 فیصد اور گلگت بلتستان میں یہ شرح 5.23 فیصد ہے۔بیان کے مطابق این سی او سی کو یہ بھی بتایا گیا

کہ صوبہ پنجاب میں راولپنڈی، ملتان، لاہور اور فیصل آباد، صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد، صوبہ خیبرپختونخوا میں سوات اور ایبٹ آباد، آزاد کشمیر میں میر پور جبکہ گلگت اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پاکستان کے متعدد شہروں میں انفیکشنز میں اضافہ ہوا ہے۔

علاوہ ازیں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بھی سامنے آنے والے انفیکشنز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور طلبہ میں کورونا وائرس کی شرح 19 فیصد ریکارڈ کی گئی۔دوسری جانب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تعلیمی اداروں میں کیسز کی مثبت شرح 1.8 فیصد سے بڑھ کر

3.3 فیصد ہوگئی۔قبل ازیں رواں ماہ کے دوران ملک میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 3 ماہ کے عرصے کے بعد 5 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔پاکستان میں کیسز کے مثبت آنے کی شرح جون میں سب سے بلند یعنی 23 فیصد تک پہنچ گئی تھی جبکہ مئی میں یہ 6 فیصد تھی تاہم ستمبر

میں یہ شرح 1.7 فیصد تک کم ہوگئی تھی۔علاوہ ازیں ملک بھر میں کورونا وائرس خاص طور پر تعلیمی اداروں میں کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو 26 نومبر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس دوران گھروں سے تعلیم کا

سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔حکام کے مطابق دسمبر کے دوران ہونے والے امتحانات کو بھی ملتوی کردیا گیا اور اب یہ 15 جنوری یا اس کے بعد ہوں گے، تاہم اس میں کچھ ایسے امتحانات ہیں جو جاری رہیں گے۔اس حوالے سے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کچھ انٹرنس امتحانات جیسے ایم ڈی کیٹ وغیرہ، جو انٹری کے لیے ہیں، وہ معمول کے مطابق جاری رہیں گے کیونکہ ان کا ایس او پیز اور ماسک کے ساتھ انتظام کرنا ممکن ہے اور اسے احتیاط کے ساتھ منعقد کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…