حالیہ بیانات پر افواج پاکستان میں شدید غصہ پایا جاتا ہے، ہم پاکستان کی خاطر خاموش ہیں، حالیہ بیانات پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا سخت ردعمل

  جمعرات‬‮ 29 اکتوبر‬‮ 2020  |  18:35

راولپنڈی(آن لائن) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان نے دن کی روشنی میں بھارت کو بھر پور جواب دیا، کل ایک ایسابیان دیا گیا جس میں حقائق کو مسخ کیا گیا،پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کو منہ کی کھانا پڑی، دشمن نے رات کی تاریکی میں بدحواسی میں پہاڑوں پر بم گرائے، اللہ کی مدد سے ہمیں دشمن پر واضح فتح نصیب ہوئی۔ پاکستان کی فتح کو پوری دنیانے تسلیم کیا ، پاکستان نے امن کوموقع دیتے ہوئے ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا، منفی بیانیے سے دشمن فائدہ


اٹھارہا ہے ہمیں ذمہ داری سے آگے بڑھنا ہوگا، ہم اندرونی اور بیرونی خطرات سے آگاہ ہیں، ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، ہرقسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیاجائے گا۔ مسلح افواج ایک منظم ادارہ ہے، افواج کی قیادت اور رینک کو جدا نہیں کیاجاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا آج کی پریس کانفرنس ون پوائینٹ ایجنڈا اور ریکارڈکی درستگی کیلئے ہے۔ کل ایک ایسا بیان دیا گیا جس میں قومی سلامتی سے منسلک معاملات کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پلوامہ واقع کے بعد26فروری2019ء کوہندوستان نے تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جارحیت کی جس میں اْسے منہ کی کھانا پڑی اور پوری دْنیا میں ہزیمت اْٹھانا پڑی۔ افواجِ پاکستان کے چوکنا اور بروقت رِسپانس نے دْشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ دْشمن کے جہاز جو بارْود پاکستان کے عوام پر گرانے آئے تھے۔ہمارے شاہینوں کو دیکھتے ہی بد حواسی میں خالی پہاڑوں پر پھینک کر بھاگ گئے۔ اس کے جوا ب میں افواجِ پاکستان نے قوم کے عزم و حمیت کے عین مطابق دْشمن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے میں پاکستان کی تمام سول ملٹری قیادت یکجا تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاپاکستان نے اعلانیہ ہندوستان کو دِن کو روشنی میں جواب دیا۔ ہم نے نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ دْشمن کے دو جنگی جہاز بھی مار گرائے۔ وِنگ کمانڈر ابھی انند ن کو گرفتار کر لیا۔ دْشمن اتنا خوفزدہ ہوا کہ بد حواسی اور خوف میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر اور جوانوں کو مار گرایا۔ اللہ کی نصرت سے ہمیں ہندوستان کے خلاف واضح فتح نصیب ہوئی۔ اِس کامیابی سے نہ صرف ہندوستان کی کھوکھلیقوت کی قلعی دْنیا کے سامنے کھلی بلکہ پوری پاکستان قوم کا سر فخر سے بْلند ہوا اور مسلح افواج سرخرو ہوئیں۔ انہوں نے کہا پاکستان کی فتح کو نہ صرف کو دْنیا میں تسلیم کیا گیا بلکہ خود ہندوستان کی قیادت نے اس شکست کا جواز رافیل جہازوں کی عدم دستیابی پر ڈال دیا۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کو ایک اور موقع دیتے ہوئے بھارتی جنگی قیدی وِنگ کمانڈر ابھی نندنکو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے اِس ذمہ دارنہ فیصلے کو جو کہ جنیوا کنونشن کے تحت تھا، پوری دْنیا نے سراہا۔ میں یہاں ایک مرتبہ پھر تاریخ کی درستگی کیلئے واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پاکستان نے پہلے اپنی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ اور یہ فیصلہ تمام جنگی آپشنز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے Position of Strengthسے کیا گیا۔ پاکستان کی قیادت اور افواجِ پاکستان ہر طرحکی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار رہے۔ ہم نے انہیں منہ تو ڑ جواب دیاجس کی تکلیف ابھی تک محسوس ہورہی ہے ۔ہندوستانی جنگی قیدی وِنگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کی گئی اسس کے علاوہ کسی اور چیز سے جوڑنا انتہائی افسوسناک اور گمراہ کْن ہے۔ یہ دراصل پاکستانی قوم کی ہندوستان پر واضح برتری اور فتح کو متنازعہ بنانےکے مترادف ہے۔ جو کسی بھی پاکستانی کیلئے ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے منفی بیانیے کے براہِ راست قومی سلامتی پر اثرات ہوتے ہیں۔ جس کا دْشمن بھرپور فائدہ اْٹھا رہاہے۔ اور اس کی جھلک آج انڈین میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی بیانیہ ہندوستان کی شکست اور ہزیمت کو کم کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی خاطر سیاسی بیانات پر خاموش ہیں، ان حالات میںجب دْشمن قوتیں پاکستان پر ہائبرڈ وار مْسلط کر چکی ہیں۔ ہم سب کو ذمہ داری سے آگے بڑھنا ہوگا۔ افواجِ پاکستان خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے اور اندورنی و بیرونی خطرات سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ قوم کی مدد سے پاکستان کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائیں گےاور کسی بھی جارحیت کا انشا اللہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کے آخر میں ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسلح افواج ایک تنظیم ہے ۔ فوج کے رینکس اینڈ فائل کو الگ نہیں کر سکتے مسلح افواج کی لیڈرشپ اور رینکس اینڈ فائل میں کسی قسم کا فرق نہیں ڈالا جاسکتاہے یہ اکائی ہے اور کائی رہے گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎