فرنچ اشیا کا بائیکاٹ، فرانس نے 2دن میں ہی گھٹنے ٹیک دئیے مسلم دنیا سے فرنچ اشیا کا بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل

  پیر‬‮ 26 اکتوبر‬‮ 2020  |  10:45

اسلام آباد،پیرس ( آن لائن، این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک )مسلم ممالک کی جانب سے شدید ردعمل آنے کے بعدفرانس نے مشرقِ وسطی کے ممالک سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کردی ، میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کی وزات خارجہ کا کہنا ہے کہ فرانس کیمصنوعات کے بائیکاٹ کے بے بنیاد اعلانات کو شدت پسند اقلیت کی جانب سے ہوا دی جا رہی ہے۔حالیہ دنوں میں چند ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا سائٹس پر پوسٹ کی گئی ہیں جن میں کویت، اردن اور قطر سمیت دیگر ممالک کے کاروباری حضرات کو اپنی دکانوں سے فرانسیسی مصنوعات کو ہٹاتے


اور ان مصنوعات کو دوبارہ فروخت نہ کرنے کا عزم کرتے دکھایا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ 48 گھنٹوں سے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا ٹرینڈ ٹاپ پر ہے۔یاد رہے فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے حالیہ دنوں میں پیغمبراسلام کے خاکے شائع کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذہب اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے اور ان کی حکومت دسمبر میں مذہب اور ریاست کو الگ کرنے والے سنہ 1905 کے قوانین کو مزید مضبوط کرے گی۔گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون کو انتہا پسندوں کو موقع نہیں دینا چاہئے تھا، دنیا کو تقسیم کرنے سے انتہا پسندی مزید بڑھے گی، صدر میکروننے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں فرانسیسی صدر میکرون کے اسلام مخالف بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لیڈر کی پہچان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو متحد کرتا ہے، فرانسیسی صدر کو دنیا کو تقسیم کرنےکے بجائے معاملات کو حل کرنا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ نیلسن منڈیلا نے لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا، دنیا کو تقسیم کرنے سے انتہا پسندی مزید بڑھے گی، توہین آمیز خاکوں کے ذریعے اسلام پر حملے لاعلمی کا نتیجہ ہیں۔دوسری جانب خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)اوریونیسکو فرانس میں کویتی مشن نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اسلام سے متعلق بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ان کے ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے کر مسترد کردیا۔فرانسیسی صدر میکروں کے اسلام مخالف بیانات پر ترک صدر طیب اردوان برہم ہوگئے اور انہوں نے فرانسیسی صدر میکروں کو دماغی معائنے کا مشورہ دے دیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎