ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

”جیو نیوز ”کے سینئر رپورٹر علی عمران سید کی گمشدگی حکومت نے بھی خاموشی توڑ دی ، اپنا موقف پیش کردیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ امید کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ علی عمران سید جلد اپنی فیملی اور دوستوں سے ملیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے نجی ٹی وی ”جیو نیوز ”

کے سینئر رپورٹر علی عمران سید کی گمشدگی پر کہا کہ امید کرتا ہوں علی عمران سید جلد اپنی فیملی اور دوستوں سے ملیں۔دریں اثنا وفاقی وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ جمہوریت میں کسی کو لاپتہ نہیں ہونا چاہیئے۔وہ اپنے بیان میں صحافی علی عمران سید کے لاپتہ ہونے پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کررہی تھیں، انہوں نے کہا کہ گرفتار کر کے مقدمہ بنانے والوں سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی سمیت مضبوط قوانین موجود ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی’جیو نیوز’ کے رپورٹر علی عمران سید لاپتہ ہو گئے، اہلِ خانہ کے مطابق علی عمران گھر سے قریبی بیکری تک گئے تھے لیکن واپس نہیں آئے۔علاوہ ازیں ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ سمیت ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے پر شدید تشویش اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کے سینئر رپورٹر علی عمران سید گزشتہ روز شام 7 سے 8 بجے کے

درمیان گھر سے تھوڑی دیر کیلئے باہر گئے اور لاپتہ ہو گئے۔علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کے معاملے کا گورنر عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ۔علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کے معاملے پر

پاکستان کی صحافتی تنظیموں، سینئر صحافیوں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے)، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز نے علی عمران سید کے لاپتہ ہونے پر سخت تشویش

کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ، وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ علی عمران سید کو بازیاب کرانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔صحافتی تنظیموں نے کہا کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیے بغیر میڈیا کی آزادی کا حصول ناممکن ہے۔

پی ایف یو جے نے کہا کہ اگر علی عمران سید کو فوری طور پر رہا نہ کروایا گیا تو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا اور پیر سے ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں احتجاج کریں گی۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے جیو کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے پر اپنے

ردعمل میں کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے علی عمران کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کریں۔صدر آر آئی یو جے عامر سجاد اور جنرل سیکرٹری آصف علی بھٹی نے کہا کہ علی عمران کا لاپتہ ہونا قابل مذمت اقدام ہے، صحافیوں کے پیشہ ورانہ امور پر انہیں

نشانہ بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، علی عمران کی باحفاظت واپسی یقینی نہ بنائی گئی تو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جائیگی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ علی عمران گزشتہ ورز کراچی سے لاپتہ ہیں، خدشہ ہے علی عمران کو رپورٹنگ پر جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام علی عمران سید کے بارے میں فوری طور پر پتہ چلائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…