پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس ،صدر کا یہ کام ہے ، جسٹس فیصل عرب کا صدر مملکت بارے اضافی نوٹ

datetime 23  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ کے جج جسٹس فیصل عرب نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے تفصیلی فیصلے میں اضافی نوٹ تحریر کیا اور کہا ہے کہ صدر کو ایگزیکٹو کسی معاملے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ جمعہ کو سپریم کورٹ نے چار ماہ بعد جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔سات ججز

کا 173 صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلہ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے جبکہ جسٹس فیصل عرب نے اضافی نوٹ لکھا ہے اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے میں 22 صفحات پر مشتمل اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس فیصل عرب نے لکھا کہ ریفرنس ظاہر کرتا ہے کہ وزیراعظم کو یہ تجویز کیا گیا کہ وہ صدر مملکت کو ریفرنس دائر کرنے کی منظوری کیلئے ایڈوائس بھیجیں، صدر مملکت نے سمری پر صرف دستخط کیے، اس میں ان کی اپنی رائے شامل نہیں تھی۔اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ ایگزیکٹو کا کام ہے کہ وہ ایسی صورت میں صدر مملکت کو آگاہ کر کے تجویز کرے مگر صدر مملکت کا کام ہے کہ وہ ان تمام ثبوتوں اور معاملات کا جائزہ لیں، اس پر رائے لیں اور اس کے بعد فیصلہ کریں کہ ایگزیکٹو کی جانب سے ان کو بھیجی گئی سمری قابل عمل ہے یا نہیں کیونکہ ایگزیکٹو صدر مملکت کو کسی معاملے پر مجبور نہیں کر سکتی۔جسٹس فیصل عرب نے لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا وکلاء برادری میں انتہائی احترام ہے، جب ان کے مالی معاملات پرسوال اٹھا تویہ انتہائی لازمی تھا کہ وہ اپنی لندن جائیدادوں کو ظاہر کرکے اپنے اوپر لگے داغ کو دھوئیں۔انہوں نے کہا کہ بہترہوتا کہ معاملے کو تحقیقات کراکے حتمی انجام تک پہنچایا جاتا تاکہ الزام کو غلط ثابت کیا جاتا تاکہ عوامی سطح پر شکوک و شبہات کو

ختم کیا جا سکتا، جج قانون سے بالاتر نہیں اور آئین کا محافظ ہے۔جسٹس فیصل عرب نے لکھا کہ اگر آئین کے آرٹیکل 209 کو کسی بھی وجہ سے غیر فعال کیاگیا تو یہ آرٹیکل جن لوگوں کیلئے بنایا گیا تھا، یہ ان کیلئے مردہ ہوگیا، قانون کی نظر میں صدارتی ریفرنس قابل سماعت نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…