نوازشریف کی فوج مخالف تقریر پر حامی اور مخالف صحافیوں کا حیران کن ردعمل

  ہفتہ‬‮ 17 اکتوبر‬‮ 2020  |  16:17

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ روز پی ڈی ایم کے زیر اہتمام ہونے والے گوجرانوالہ جلسے میں دھواں دھار تقریر کی ، انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید پر سنگین الزامات لگائے۔ اپنی تقریر کے دوران نوازشریف عدلیہ پر بھی وار کرتے رہے۔ نوازشریف کی تقریر پر صحافیوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آیاہے۔ صحافیوں کی اکثریت نے نوازشریف پر تنقید کی لیکن نوازشریف کے حامی صحافیوں نے جہاں تعریف کی وہاں سوالات بھی اٹھائے ۔سینئر صحافی حامد میر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ


نواز شریف صاحب کی تقریر تو اچھی تھی انہوں نے باجوہ صاحب پر بہت سے الزامات لگائے اگر نواز شریف پر پابندی نہ ہوتی تو ان سے یہ ضرور پوچھتا کہ جب آپ کی پارٹی نے پچھلے سال باجوہ صاحب کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کی تو آپ کو یہ الزامات کیوں یاد نہ آئے؟سوال تو بنتا ہے لیکن پوچھیں کیسے؟اینکر سلیم صافی نے کہا کہ کل سے سوچ رہا تھا کہ پی ڈی ایم نے پی ٹی ایم کو گوجرانولہ جلسہ میں شرکت کی دعوت کیوں نہیں دی۔ اب پتہ چلا نواز شریف نے نواز پشتین بن کر منظور پشتین کی تقریر خود کرنی تھی۔معروف خاتون صحافی اور اینکر پرسن نادیہ مرزا نے کہا کہ میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہوں۔ بس انتظار کیجیے اور دیکھیں کہ اب کیا ہوتا ہے۔معروف اینکر پرسن منصور علی خان نے کہا کہ بات کہتا کیوں نہیں سے چل کر وہ کیوں نہیں کہتا تک پہنچی اور یہ کیا کہہ دیا تک آ چکی ہے۔نیوز اینکر طارق متین نے نواز شریف کو الطاف بھائی ٹو کا نام دیا۔معروف صحافی عدیل راجہ نے کہا کہ جی، تو ڈیل کر کے پلیٹلیٹس کم کر کے عوام کو چکمہ دے کر باہر بھیجنے والو!مزہ آرہا ہے؟ یہ تو ہو گا! یہ تو ہو گا!


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎