جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

وزیر اطلاعات سینیٹرشبلی فراز نے غالب کے شعر کو اپنے والد احمد فراز کا شعر بنادیا،سوشل میڈیا پر شدید تنقیدکا سامنا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے غالب کے شعر کو اپنے والد احمد فراز کا شعر بنادیا۔ شبلی فراز نے سوشل میڈیا پرگوجرانوالا کے جلسے کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ساتھ میں ایک شعر کا مصرعہ لکھا۔معروف شاعر احمد فراز کے صاحبزادے

شبلی فراز نے اپوزیشن کے جلسے پر طنزیہ مصرعہ تو لکھا لیکن انہوں نے غالب کے مصرعے کو احمد فراز کا مصرعہ قرار دے دیا۔گوجرانوالہ جلسے کی تصویر لگاتے ہوئے شبلی فراز نے غالب کے شعر کا یہ مصرعہ لکھا کہ جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ اور ساتھ کہا کہ یہ احمد فراز کا مصرعہ ہے۔درحقیقت یہ مرزا غالب کی غزل کا شعر ہے اور وہ شعر یہ کہ ”ہے سبزہ زار ہر درو دیوارِ غم کدہ،جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ”۔بعدازاں سوشل میڈیا صارفین کی جانب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز پر تنقید کی جانے لگی کہ یہ مصرعہ مرزا غالب کے شعر کا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس بات کی نشاندہی کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے تصحیح کرتے ہوئے ایک بار پھر مرزا غالب کا نام لکھ کر مصرعہ ٹوئٹ کیا۔دریں اثنا میڈیا سے بات کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ عوام اپوزیشن کے ذاتی مفادات کی سیاست کو جانتے ہیں، اپوزیشن کا پہلا شو فلاپ ہوگیا، ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں، انھوں نے عوام

کے لیے کچھ نہیں کیا، ان کو غریبوں کے دکھ درد کا کیا پتہ ؟ مریم نواز بتائیں انہوں نے کسی غریب سے آخری ملاقات کب کی؟سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ گزشتہ روز اپوزیشن کے جلسے میں اداروں کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی، ملکی تحفظ کے ضامن اداروں کے خلاف مہم جوئی

کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے کہاتھا احتساب کا عمل شروع ہوگا یہ اکٹھے ہو جائیں گے، 11 پارٹیاں 15 سے 18 ہزار لوگ بھی اکٹھے نہیں کر پائیں، مولانا فضل الرحمان نے تو خالی

کرسیوں سے خطاب کیا، ان کو اپنی اصلیت نظر آگئی، ان کو مزید جلسوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے، امید ہے آپ اپنے باقی جلسے موخر کردیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ والوں سے کہتا ہوں کہ خطرناک کھیل نہ کھیلے، نواز شریف خطرناک بیانیے پر کام کررہے ہیں ، یہ بیانیہ ناکام ہوگا۔

نواز شریف کاعمل ایسا ہے جیسے ناراض محبوبہ، انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیسے بدلہ لیں، میں نوازشریف کو باہر بھیجنے کے حق میں نہیں تھا کیونکہ جب ایسے لوگ باہر جاتے ہیں تو وہ غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں، پاکستان کے اداروں پر تنقید بھارت کا ایجنڈا ہے، نوازشریف کو لندن سے واپس لایا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…