پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ن لیگ جارحانہ،پی پی سے ہتھ ہولااور فضل الرحمن کیساتھ بیک ڈور رابطوں کا فیصلہ حکومت نے پی ڈی ایم جلسے ناکام بنانے کیلئے کثیرالجہتی حکمت عملی مرتب کرلی

datetime 13  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن) حکومت نے پی ڈی ایم جلسوں سے نمٹنے کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے خلاف انتہائی جارحانہ،پیپلز پارٹی کے ساتھ ہتھ ہولاجبکہ اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں سے کوئی رابطہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

منگل کے روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں پارٹی کی سینئر قائدین نے شرکت کی ،اجلاس میںیک نکاتی ایجنڈے پر مشتمل پی ڈی ایم تحریک اور جلسوں پر تفصیلی غوروغوض کیا گیا ۔ سیاسی اجلاس میں اپوزیشن سے نمٹنے کیلیے کثیر الجہتی حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے ۔حکومت نے پی ڈی ایم کی تحریک کو ناکام بنانے کیلئے مختلف آپشنز اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق مسلم لیگ (ن )کے خلاف سخت رویہ اور اقدامات کئے جائیں گے اور احتساب کے حوالے سے بھی ن لیگ حکومت کے سیاسی تیروں کا نشانہ بنے گی ،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہتھ ہولا رکھا جائیگا اورپی پی کی قیادت پرصرف رسمی تنقید کی جائے گی ،پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت کیلئے تمام درواز ے کھلیں رہیں گے اس حوالے سے وزراء کو پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطو ں کیلئے ٹاسک سونپ دیا گیا ہے ۔اجلاس میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بھی

تفصیلی بات چیت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے دیگر سینئر رہنمائوں کے ساتھ بیک ڈور رابطے کئے جائیں گے اور جائزمطالبات فوری تسلیم کرتے ہوئے ان پر من وعن عملدرآ مدکیا جائیگا تاہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جے یو آئی ف اپنے مطالبات پر مذاکرات پر

رضامند نہ ہوئی تو ان کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی طرح سخت اور جارحانہ ایکشن لیا جائیگا ،اجلاس میں اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں سے کسی قسم کا کوئی رابطہ اور بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس

میں اپوزیشن کو جلسوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور عمران خان نے کہا کہ جلسوں میں رکاوٹ ڈال کر اپوزیشن کو ہیرو نہیں بننے دیں گے ،جلسے وجلوس اپوزیشن کا حق ہے اور آئین و قانون کے دائرہ میں رہ کر جو مرضی کرلیں لیکن قانون کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائیگا ، عمران خا ن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے پہلے بھی جلسے کئے تھے اور اب بھی کر کے دیکھ لیں یہ عوام کے ساتھ ایکسپوزہوں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…