ہفتہ‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2025 

ملک کا منی لانڈرنگ قانون بھی طاقتوروں کو نہیں پکڑ سکتا، وزیراعظم عمران خان کا بے بسی کا حیرت انگیز اظہار

datetime 30  ستمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے پیچھے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں اشرافیہ کے لیے منصوبہ بندی کی گئی، اسی وجہ سے ملک کا منی لانڈرنگ قانون بھی طاقتوروں کو نہیں پکڑ سکتا، مجھے امید ہے کہ ہم آئی ٹی اور نوجوانوں کو استعمال کرکے اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں،یکطرفہ ترقی جو ہمارے ملک میں ہوتی ہے اس کے معاشرے پر بہت

برے اثرات ہوتے ہیں، دنیا کی ترقی کو بھی دیکھیں،غریب ملک غریب تر ہوتے ہیں اور جب امیر ممالک میں سارا پیسا لگ جاتا ہے تو منی لانڈرنگ کے قانون بھی طاقت ور ممالک کو تحفظ دیتے ہیں اور کمزور ممالک کو کوئی تحفظ نہیں دیتا۔ بدھ کو سندھ اور بلوچسان میں تیز ترین موبائل براڈبینڈ ڈیٹا سروسز فراہم کرنے کیلئے یونیورسل سروسز فنڈ (یو ایس ای)کی جانب سے معاہدوں کی دستخط تقریب سے خطاب انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت غربت ہے وہ بہت وسیع علاقہ ہے تاہم اس علاقے کو بہت نظرانداز کیا گیا اور وہ بہت پیچھے رہ گیا، یہاں تک کہ جہاں سے سوئی گیس نکلی وہاں سے دیگر علاقوں کو فراہم کی گئی لیکن وہ علاقہ پتھروں کے دور میں ہے۔انہوں نے کہاکہ یکطرفہ ترقی جو ہمارے ملک میں ہوتی ہے اس کے معاشرے پر بہت برے اثرات ہوتے ہیں، دنیا کی ترقی کو بھی دیکھیں تو جب غریب ملک غریب تر ہوتے ہیں اور امیر ممالک میں سارا پیسا لگ جاتا ہے تو منی لانڈرنگ کے قانون بھی طاقت ور ممالک کو تحفظ دیتے ہیں اور کمزور ممالک کو کوئی تحفظ نہیں دیتا۔عمران خان نے کہا کہ جب دنیا میں غیرمنصفانہ ترقی ہوتی ہے تو معاشرے کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بھی یہی رہا ہے کہ ایک چھوٹے سے طبقے کے لیے انگریزی تعلیم دی گئی جبکہ باقی دینی مدارس کو ہم نے نظر انداز کردیا کہ وہاں کیا تعلیم دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ

سرکاری اردو میڈیم سے بہت بڑے دانشور آتے تھے لیکن آہستہ آہستہ پیسے بنانے کیلئے انگیریزی میڈیم اسکولز کی کی دکانیں کھل گئیں اور سرکاری اسکولز اور پیچھے چلے گئے۔انہوں نے کہاکہ 60 کی دہائی میں دنیا پاکستان کی مثال دیتی تھی اور بہت سے ممالک کیلئے پاکستان رول ماڈل تھا تاہم ہم پیچھے اس لیے رہ گئے کہ یہاں جو منصوبہ بندی کی گئی وہ صرف اشرافیہ اور چھوٹے سے طبقے

کیلئے کیا گیا، ایک وقت میں سرکاری ہسپتالوں میں بہترین علاج ہوتا تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ ہسپتال غریبوں کے لیے رہ گئے اور نجی ہسپتال پیسے والوں کے لیے ہوگئے۔عمران خان نے کہا کہ یہ جو مفاہمت کی یادداشت ہم نے کی ہے یہ بہت مثبت چیز ہے اور ہم نے سوچا کہ پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو جوڑیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں لوگوں کی زندگی کو بہتر کرنے کیلئے جوڑنا (کنیکٹی وٹی)

زبردست طریقہ ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں جب بھی مواصلات جاتی ہے تو لوگ اوپر آنا شروع ہوجاتے ہیں، موبائل فون کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ان علاقوں جہاں لوگوں پر تعلیم نہیں پہنچی وہاں لوگ اس کے ذریعے تعلیم حاصل کرتے ہیں، میرے گھر کے بھی کئی ملازم خود موبائل فون چلاتے ہیں اور کچھ کے فیس بک اکانٹس بھی ہیں۔پانچویں صنعتی انقلاب سے متعلق انہوں نے کہا

کہ جدید ٹیکنالوجی کا بہت بڑا کردار ہے اور 4 جی اور 5 جی سے بہت بہتر اثر پڑے گا جبکہ کورونا وائرس کے دوران ورچوئل ایجوکیشن کا بہت فائدہ ہوا ہے اور اب ہمیں بھی یہ آئیڈیا ملا ہے کہ اسے ان علاقوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں اساتذہ کو نہیں بھیج سکتے۔وزیراعظم نے

اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پاکستان ملک کا مستقبل ہے، وزارت آئی ٹی اچھا کام کر رہی ہے لیکن ہم نے ابھی بہت کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں، آئی ٹی اور رابطوں کو استعمال کریں تو مجھے امید ہے کہ ہم اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نیوٹن


’’میں جاننا چاہتا تھا‘ میں اصل میں کون ہوں‘…

غزوہ ہند

بھارت نریندر مودی کے تکبر کی بہت سزا بھگت رہا…

10مئی2025ء

فرانس کا رافیل طیارہ ساڑھے چار جنریشن فائیٹر…

7مئی 2025ء

پہلگام واقعے کے بارے میں دو مفروضے ہیں‘ ایک پاکستان…

27ستمبر 2025ء

پاکستان نے 10 مئی 2025ء کو عسکری تاریخ میں نیا ریکارڈ…

وہ بارہ روپے

ہم وہاں تین لوگ تھے‘ ہم میں سے ایک سینئر بیورو…

محترم چور صاحب عیش کرو

آج سے دو ماہ قبل تین مارچ کوہمارے سکول میں چوری…

شاید شرم آ جائے

ڈاکٹرکارو شیما (Kaoru Shima) کا تعلق ہیرو شیما سے تھا‘…

22 اپریل 2025ء

پہلگام مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کا چھوٹا…

27فروری 2019ء

یہ 14 فروری 2019ء کی بات ہے‘ مقبوضہ کشمیر کے ضلع…

قوم کو وژن چاہیے

بادشاہ کے پاس صرف تین اثاثے بچے تھے‘ چار حصوں…