جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

اپوزیشن وزیراعظم، سپیکر اور وزیراعلی پنجاب کے خلاف کیا کرنے والی ہے؟ مشاورتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

datetime 19  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آ ن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی نے اتوار کو اپوزیشن کی اے پی سی کے لئے اپنی تجاویز تیار کرلی ہیں، وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز تیار کرلی گئی ہے۔ چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پیپلزپارٹی کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی اندرونی کہانی کے مطابق پیپلزپارٹی تمام تجاویز اے پی

سی کے سامنے رکھے گی۔اے پی سی میں دیگر جماعتوں نے حمایت کی تو باضابط تحریک جمع کرائی جائیگی۔ذرائع پیپلزپارٹی کا کہناہے کہ اے پی سی میں رہبر کمیٹی کی طرز پر کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دیں گے۔کمیٹی پر اتفاق ہوا تو، کمیٹی کو تحریک عدم اعتماد لانے سمیت مختلف تجاویز تیار کرنے کا اختیار دیا جائیگا۔کمیٹی فیصلہ کر کے سفارشات تیار کرے گی کہ حکومت کے خلاف تحریک کس محاذ سے شروع کرنی چاہئے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی کی قیادت کا رابطہ ہواہے۔ جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف نے تصدیق کر دی۔قیصر شریف کا کہناہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کا سیاسی، آئینی اور جمہوری حق ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اب اس کے نتائج کا قوم کو انتظار رہے گا۔ حکومت کی ناکامی اور نااہلی نے از خود اپوزیشن کو احتجاج کا موقع مہیا کر دیاہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو عوام کا اعتماد بحال کرنے میں سخت محنت کرنا ہوگی۔ بعض اپوزیشن جماعتوں کے بار بار بدلتے اقدامات سے اپوزیشن کی پوزیشن کو کمزور بنایا۔ قیصر شریف نے کہا کہ چئیرمین سینٹ انتخاب، فوجی عدالتوں، فوجی سربراہوں کی توسیع ملازمت اور ایف اے ٹی ایف کے قانون سازی پر اپوزیشن نے اپنے آپ کو کمزور بنا دیا۔

جماعت اسلامی قومی سلامتی، قومی مفادات اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر مثبت اقدام کاخیرمقدم کر ے گی۔ ہماری جدوجہد اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کے لیے جاری ہے۔ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل، با اختیار بلدیاتی نظام، شفاف اور غیر جانبدانہ انتخابی نظام کے لیے ملک گیر تحریک چلائے گی۔

دریں اثناء امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پیپلزپارٹی پر واضح کیا ہے جماعت اسلامی حکومت کے خلاف پہلے ہی میدان عمل میں ہے۔پیپلزپارٹی کو کہا ہے کہ کل فیصلہ کریں اس کو دیکھ کر اپنا فیصلہ کریں گے مقاصد کا تعین ضروری ہے، اس کے بعد کوئی بھی فیصلہ ہوگا،۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…