پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

نوازشریف10 ستمبر کو پیش نہیں ہوتے تو اسلام آباد ہائیکورٹ کیا کچھ کر سکتی ہے؟ن لیگ کا سکون چھن گیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم نوازشریف10 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے خود ہتھیار نہیں ڈال دیتے تو عدالت کے پاس مختلف قانونی اختیارات ہیں۔امکان ہے کہ وہ اپنے نامکمل طبی علاج کے باعث دی گئی ڈیڈ لائن تک لندن سے نہیں لوٹیں گے۔

قانونی ماہرین مختلف احکامات کا حوالہ دیتے ہیں کہ نواز شریف کے خود کو عدالت کے سامنے پیش نہ کرنے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ حکم جاری کرسکتا ہے۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ کی شائع خبر کے مطابق سابق وزیر اعظم کی جانب سے دو ریفرنسز میں ان کی سزا کے خلاف دائر اپیلیں اورنیب کے ذریعہ ایک معاملے میں ان کی بریت کے خلاف پیش کردہ ایک چیلنج کی سماعت بیک وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ذریعے کی جارہی ہے۔معروف قانونی ماہر عمر سجاد کہتے ہیں کہ انتہائی اقدام کے طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ حتی کہ نواز شریف کی اپیلیں بھی خارج کر سکتی ہے۔ وہ ان کے خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنے تک ان کی درخواستوں کو التوا میں ڈال سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سابق وزیر اعظم کو مفرور قرار دے سکتی ہے۔ اس صورتحال میں ان کی ضمانت کے لئے دی گئی ضمانت ضبط ہوسکتی ہے جبکہ ان کی املاک کی نیلامی کا بھی حکم دیا جاسکتا ہے۔

فوجداری قانون کا ایک اصول ہے کہ ملزم کو خود ہتھیار ڈال دینے چاہئیں جب ان کی ضمانت ختم ہوجائے کیونکہ عدالتیں محسوس کرتی ہیں کہ سہولت ختم ہونے کے بعد ملزمان پیش ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ملزمان، جو جیل میں یا ضمانت پر ہوں

کو اپیلیٹ عدالتوں کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی جب تک انہیں طلب نہ کیا گیا ہو۔ٹرائل یا اپیلیٹ عدالتیں بھی ملزم کو پیشی سے استثنیٰ دے سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اور آپشن یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نواز شریف کی غیر موجودگی میں بھی اپیلوں پر کارروائی کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…