وفاق کو ججز کی جائیدادوں سے کیا مسئلہ ہے؟ جائیدادیں معزز جج کی اہلیہ اور بچوں کی ہیں اور ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں تو جج سے سوال کیسا؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے ججز کے اہم ریمارکس

  منگل‬‮ 2 جون‬‮ 2020  |  16:12

اسلام آباد(آن لائن)صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں سپریم کورٹ نے لندن جائیدادوں بارے پیش کی جانے والی دستاویزات پر قانونی حیثیت بارے سوالات اٹھا دیئے ۔ شکایت اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو کیوں بھیجی گئی؟ صدر مملکت یا جوڈیشل کونسل کو شکایت کیوں نہیں بھیجی گئی؟اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کس حیثیت سے معزز جج کیخلاف معلومات اکٹھی کی؟ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کیا ہے؟ شکایت یونٹ تک کیسے پہنچی ،کون لیکر گیا،اور اس یونٹ کا آرٹیکل 209 کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا گیا مواد عدالت عظمیٰ میں بطور ثبوت پیش


کیا جا سکتا ہے؟ الزام ہے معزز جج کیخلاف غیر قانونی طریقے سے مواد اکٹھا کیا گیا؟اگر مواد قانونی ہے تو مواد کے قانونی طریقے سے اکٹھا کرنے پر دلائل دیئے جائیں؟جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ بات اہم ہے کہ غیر قانونی طریقے سے حاصل کئے گئے دستاویزکا مقدمہ پر کیا اثرپڑے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ جائیدادیں معزز جج کی اہلیہ اور بچوں کی ہیں اور ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں تو جج سے سوال کیسا؟کیا بطور جج مجھے ہر بار بچوں کے اثاثوں کا بھی بتانا ہوگا ؟ عدالت نے مزید سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی ۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ سابق وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور سیکرٹری برائے قانون و انصاف ملائکہ بخاری سپریم کورٹ میں حاضر ہوئے۔ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے کراچی رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے کیس میں فروغ نسیم کے پیش ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے موقف اپنایا کہ فروغ نسیم کا پیش ہونا قوائد و ضوابط اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔ میں نے تحریری طور پر عدالت کو اعتراضات سے آگاہ کر دیا ہے،تمام اعتراضات آئین و قانون اور سپریم کورٹ کے قوائد کے مطابق ہیں،عدالت کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا عدالت خود اعتراضات دیکھ لے،تمام اعتراضات آئین و قانون اور سپریم کورٹ کے قوائد کے مطابق ہیں، سپریم کورٹ ایک مقدمے میں واضح کرچکی، سرکار کی طرف سے پرائیویٹ وکیل پیش ہوکر دلائل نہیں دے سکتا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت کو نمائندگی کا مکمل حق حاصل ہے، ایک اٹارنی جنرل انور منصور ریٹائرڈ ہوئے دوسرے اٹارنی جنرل نے مقدمے کی پیروی سے معذرت کرلی۔ اب عدالت کی معاونت کیلئے وفاقی حکومت نے وکیل تو کرنا ہے، اعتراض مناسب نہیں ہے، ہم آپ کی درخواست پر فیصلہ جاری کریں گے۔ سرکاری وکیل فروغ نسیم نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہل خانہ کی لندن جائیدادوں کے دستاویزی ثبوت عدالت میں پیش کئے ۔فروغ نسیم نے کہا کہ لندن کی تین جائیدادیں معزز جج کے بچوں اور اہلیہ کے نام پر ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ جائیدادیں کن ذرائع سے خریدی گئی، پاکستان سے جائیدادیں خریدنے کے لیے پیسہ باہر کیسے گیا، جسٹس قاضی فائز عیسٰی منی ٹریل نہیں دیتے تو یہ مس کنڈکٹ ہے،میرے اوپر جو اعتراضات اٹھائے گئے انکی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ رشید احمد کیس میں اس سے متعلق وضاحت ہوچکی ہے ،اٹارنی جنرل نے مطلوبہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی کی تحریری درخواست کی زبان پر اعتراض ہے ،جسٹس قاضی فائز عیسی نے کیس میں ابھی تک لندن میں جائیدادوں کی منی ٹریل نہیں دی،وہ اب تک لندن جائیدادوں کے ذرائع آمدن بتانے سے قاصر ہیں،جج ایک بہت معزز شخصیت ہوتی ہے، جسے شک و شبے سے بالا ہونا چاہئیے،ججز کوڈ آف کنڈکٹ شفافیت کا متقاضی ہے،جائیدادیں فائز عیسی کی اہلیہ اور بچوں کی ہیں،اس کیس میں بار ثبوت حکومت پر نہیں معزز جج پر ہے۔ مختلف کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہل خانہ کی لندن میں مجوجود جائیدادوں کی رجسٹریز پیش کیں ، جس پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ وفاق کو ججز کی جائیدادوں سے کیا مسئلہ ہے، کیا ججز پر بغیر شواہد اور شکایت کے سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟ ٹھوس شواہد نہیں ہیں تو ججز کی ساکھ پر سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے، کیا حکومتی اقدام ججز اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں؟۔جسٹس مقبول باقرنے کہا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کس حیثیت سے معلومات اکٹھی کی؟ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو وحید ڈوگر کی شکایت کی کاپی درخواست گزار جج کو فراہم کرنی چاہیے تھی، وحید ڈوگر کی شکایت کی دستاویزات کا دس مرتبہ عدالت نے پوچھا ، میڈیا پر کئی بار دستاویزات دکھائی گئیں لیکن عدالت کو نہیں دی گئیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کیا ہے پہلے یہ بتائیں، شکایت یونٹ تک کیسے پہنچی اور اس یونٹ کا آرٹیکل 209 کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ عدالت عظمیٰ ایک ایسے ڈاکومنٹ جسے فریق دوم دیکھ بھی سکا ہو پر دلائل دینے کی اجازت کیسے دے؟ ایک ایسا ڈاکومنٹ جو غیر قانونی طریقے حاصل کیا گیا ہو کیا وہ عدالت عظمیٰ میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے؟ اگر لندن میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہل خانہ کی جائیدادوں کے دستاویزی ثبوت تھے تو معاملہ سپریم جوڈیشنل کونسل کی بجائے ایسسٹ ریکوری یونٹ کو کیوں بھیجا گیا ؟جسٹس عمر عطاء بندیال نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ موسم گرما کی تعطیلات بھی شروع ہونیوالی ہیں،ہم کیس کو ان تعطیلات سے قبل نمٹا نا چاہتے ہیں، مناسب فیصلے تک پہنچنے کے لیے ہمیں معاونت درکار ہے،سرکاری وکیل اٹارنی جنرل کا سرٹیفیکیٹ ریکارڈ پر لے کر آئیں،سرٹیفکیٹ کے ریکارڈ پر آنے کے بعدہی فیصلہ کریں گے، جاننا ہو گا یہ کیسے علم ہوا کہ لندن میں جائیدادیں جسٹس قاضی فائز عیسی کی ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ فروغ نسیم کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسی کیا ہل خانہ کی لندن جائیدادوں کی عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویزات کی قانونی حیثیت کیا ہے ،کیا یہ دستاویزات بیرون ملک سے غیر قانونی طریقے سے حاصل نہیں کی گئیں ۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے دستاویز کا مقدمہ پر کیا اثر پڑے گا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ اگر جائیدادیں اہلیہ اور بچوں کی ہیں، جو ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں تو جج سے سوال کیسا؟کیابطور جج مجھے ہر بار بچوں کے اثاثوں کا بھی بتانا ہو گا؟عدالت عظمیٰ نے کیس میں پیش کی جانے والی نئی دستاویزات تک فریق مخالف کو دسترس دینے اور سراکری ٹیم کو اپنے دلائل کی مزید تیاری کیلئے ایک دن کا وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کر دی ہے ۔


موضوعات: