بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

وفاقی بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی تیاریاں ،حیرت انگیز تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 10  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے بجٹ 2021-2020 کے لیے تجاویز کا مسودہ تیار کرلیا ہے جس میں قوانین میں آسانیوں اور ٹیکس نظام میں بے قاعدگیوں کے خاتمے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ایف بی آر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس فری بجٹ کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ عیدالفطر کے بعد بین الاقوامی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔مزید برآں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ آئندہ سال کے بجٹ کو پہلے ہی کورونا بجٹ قرار دے چکے ہیں تاہم اس کا انحصار آئی ایم ایف پر ہے کہ وہ ٹیکس سال 2021 کے لیے پاکستان کے کم ٹیکس ہدف کی تجویز پر غور کرے گا یا نہیں، آئی ایم ایف نے آئندہ سال کے لیے 51 کھرب روپے کے ٹیکس ہدف کی تجویز دی تھی جو مالی سال 2020 میں پیش کیے گئے سے 30 گنا زیادہ ہے۔رواں برس کے لیے آئی ایم ایف نے کاروباروں پر کورونا وائرس کے اثرات کے باعث ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 48 کھرب سے کم کرکے 39 کھرب کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بینچ مارک کے حصول کا انحصار بھی عید سے قبل اور بعد اور جون کے پورے مہینے میں کاروباری سرگرمی بہتری پر ہے۔ایک اور سینئر ٹیکس عہدیدار نے بتایا کہ آئی ایم ایف حکام آئندہ بجٹ کی سمت کے تعین کے لیے پاکستانی معاشی ٹیم سے ملاقات کریں گے کہ یہ ٹیکس فری ہوگا یا آئندہ سال کے ہدف کے حصول کے لیے کچھ ٹیکس عائد ہوگا۔عہدیدار نے کہا کہ ایف بی آر آئندہ سال کی بجٹ تجاویز کے حوالے سے کام مکمل کرلیا اور اس وقت بے قاعدگیوں کی شناخت کی جارہی ہے تاکہ ان کا خاتمہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکس دہندگان کی آسانی کے لیے ٹیکس قوانین کو آسان اور ساہ بنانے پر بھی کام کررہے ہیں۔عہدیدار کے مطابق ایف بی آر، ٹیکس سے متعلق مسائل کی شناخت کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی مصروف عمل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم آئندہ بجٹ میں کچھ شعبوں کے لیے ٹیکس مراعات پر بھی غور کریں گے تاکہ انہیں کاروبار کی بحالی میں مدد مل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…