بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ہمارا نظام صحت دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح اس قدر توانا نہیں ہے وفاقی وزیر خارجہ نے اعتراف کرتے ہوئے بہترین مشورہ دیدیا 

datetime 8  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ کورونا ایک غیر معمولی چیلنج ہے ،جس سے نمٹنے کیلئے ہمیں عالمی سطح پر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، ہمارا نظام صحت دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح اس قدر توانا نہیں ہے جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے ، موجودہ صورتحال میں پاکستان کے مثبت رویے کے باوجود بدقسمتی سے بھارت کے رویے میں

کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔جمعہ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تھاٹ لیڈرز ڈیجیٹل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں اس اجلاس میں تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتا ہوں،کوووڈ 19 ایک غیر معمولی عالمی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے ہمیں عالمی سطح پر مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں اب تک 24073 افراد کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور 564 افراد اس وبا کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ انہوںے کہاکہ ہمارا نظام صحت دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح اس قدر توانا نہیں ہے جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے 8بلین ڈالر کی رقم اس وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کیلئے مختص کی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم احساس پروگرام کے تحت 144ارب روپے کی رقم 12 ملین غرباء میں تقسیم کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ 75 ارب مالیت کا پیکج ، ان دیہاڑی دار مزدوروں کی مدد کیلئے مختص کیا گیا ہے جن کا روزگار لاک ڈاؤن کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے،ہماری برآمدات 41 فیصد تک کم ہو چکی ہیں ہمارا معاشی خسارہ جی ڈی پی کا 10 فیصد تک جانے کا خدشہ ہے اسی تناظر میں وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری کو پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے گلوبل ڈیٹ ریلیف کی تجویز دی تاکہ یہ رقم کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے استعمال میں لاء جا سکے اور ان وسائل کو بروئے کار لا کر قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے ۔ شا ہ محمود قریشی نے کہاکہ جی 20 فورم نے اقتصادی معاونت کا اعلان کیا جو خوش آئند اقدام ہے مگر یہ ہمارے چیلنجز کے پیش نظر ناکافی ہے،

میں اس سلسلے میں تبادلہ خیال کے ذریعے آپ جیسے عالمی ماہرین کی آراء سے استفادہ کرنے کا خواہاں تھا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اگلی سارک کانفرنس کی میزبانی کیلئے تیاریوں میں تھا ناہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کے بھارتی اقدامات نے ساری صورتحال کو بدل کر رکھ دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت کے رویے کے باوجود جب کرونا کے حوالے سے ہندوستان نے سارک ویڈیو کانفرنس برائے کرونا کی

دعوت دی تو ہم نے شرکت کا فیصلہ کیا اور اس عالمی وبائی چیلنج کو پیش نظر رکھتے ہوئے، خطے کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے اس میں شریک ہوئے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان نے ویڈیو لنک کے ذریعے سارک وزرائے صحت کانفرنس کا انعقاد بھی کیالیکن پاکستان کے مثبت رویے کے باوجود بدقسمتی سے بھارت کے رویے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…