ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

سر میں گولی مارنے کے بعدغنی ٹائیگر کے والد کیساتھ کیا بے رحمانہ سلوک کیا گیا؟ ٹک ٹاک سٹار قتل کے پیچھے ساری کہانی سامنے لے آئے ، بڑا اعتراف کرلیا

datetime 6  مئی‬‮  2020 |

سیالکوٹ( آن لائن )چند دن قبل پنجاب کے ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ٹک ٹاک اسٹار غنی ٹائیگر نے اپنے والد کو قتل کیے جانے کے واقعے پر کھل کر بات کی ہے، جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے والد کو دراصل بچوں کے جھگڑے کے بعد قتل کیا گیا۔

غنی ٹائیگر نے بتایا کہ ماہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں محلے کے دو بچوں کے درمیان جھگڑا ہوا جن میں سے ایک بچے کا تعلق ان کے خاندان سے تھا اور اس سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے تھے لیکن اس بار انہیں سمجھ نہیں آیا کہ بات اس حد تک کیسے بڑھ گئی؟غنی ٹائیگر کا کہنا تھا کہ بچوں کے جھگڑوں کا علم نہ صرف انہیں تھا بلکہ ان کے دیگر اہل خانہ کو بھی تھا اور انہوں نے ہی اپنے والد اور چچا کو بتایا کہ وہ بچوں کے جھگڑے کے معاملے پر سب میں صلح کروادیں گے۔غنی ٹائیگر کا کہنا تھا کہ جس وقت ان کے والد کو قتل کیا گیا، اس سے کچھ دیر قبل ہی وہ والد سے بات کر رہے تھے اور انہیں بتا رہے تھے کہ وہ بچوں کے جھگڑے کی صلح کروادیں گے اور اسی دوران ہی باہر سے لڑنے جھگڑنے کی آوازیں آئیں تو وہ گھر سے نکل آئے۔غنی ٹائیگر نے دعوی کیا کہ جیسے ہی وہ گھر سے باہر آئے تو انہوں نے اپنے ہی ایک دوست کو گولی لگنے کے بعد زخمی حالت میں دیکھا اور پھر اچانک ان کے ایک کزن کو بھی گولی لگی اور وہ بھی زخمی ہوگئے، انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گولیاں کس طرف سے کون چلا رہا ہے۔ٹک ٹاک اسٹار کے مطابق بچوں کی لڑائی پر دوسری پارٹی کے لڑکوں نے طلبہ تنظیم انجمن طلبہ اسلام (اے ٹی آئی) کا نام استعمال کرکے دیگر لڑکوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا اور تقریبا 11 لڑکے ان کے محلے میں آئے اور ان کی فائرنگ سے پورا محلہ گونج اٹھا۔

انہوں نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ جب ان کے ایک دوست اور کزن کو گولی لگی اور حالات مزیدہ کشیدہ ہوگئے تو ان کے والد بھی گھر سے نکل آئے اور پھر ان پر بھی کسی نے گولی چلادی اور ان کے والد زندگی کی بازی ہار گئے۔ان کے مطابق ان کے والد کو سر میں گولی لگی اور گولی لگنے کے بعد ان کے سر پر ڈنڈا بھی مارا گیا، ان پر بیہمانہ تشدد کیا گیا۔غنی ٹائیگر کا کہنا تھا کہ جن لڑکوں نے فائرنگ کی وہ ان کے پرانے دوست تھے، کبھی وہ سب مل کر ایک ساتھ کھیلتے تھے اور پہلے بھی ان کے محلے میں ایسے ہی بچوں کے معاملے پر لڑائی جھگڑے ہوتے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…