اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

افغان مجاہدین کی مدد کا مقصد پاکستان پرسوویت یلغار کو روکنا تھا،اسامہ سے ملاقاتیں اسلام آباد میں کس مقامات پر ہوتی تھیں؟سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا

datetime 29  اپریل‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ سراغ رسانی کے باب میں سعودی عرب اسلامی تعلیمات پرعمل پیرا ہے۔ ہمارا انٹیلی جنس نظام اور اختیارات ہمیں صرف معلومات کے حصول، ذرائع کو بھرتی کرنے اور اسے عہدیداروں تک پہنچانے کے لیے کسی شخص کے قتل کی اجازت نہیں دیتے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ سابق سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیزبیرون ملک سعودی اپوزیشن رہ نمائوں کی واپسی میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ اور انٹیلی جنس نے اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا اور بہت سے اپوزیشن رہ نمائوں کو وطن واپس لایا گیا۔انہوں نے القاعدہ کی تشکیل میں سعودی عرب اور امریکا کے کردار سے متعلق الزامات کو یکسر مسترد کردیا اور کہا کہ یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ القاعدہ سعودی عرب اور امریکا نے مل کربنائی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ افغان جنگ کے دوران سعودی انٹیلی جنس نے امریکا کے ساتھ مل کر افغان مجاھدین کی اس لیے مدد کی تاکہ سوویت یونین کو پاکستان پر یلغار سے روکا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں سعودی عرب، امریکا اور پاکستان باہم متحد تھے۔ سوویت یلغار روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں عرب مجاھدین کو پاکستان میں قائم کردہ پناہ گزین کیمپوں میں رکھا گیا۔ یہ تمام رضاکار جنگجو اور مجاھدین تھے جو سوویت یلغار کو روکنے کے لیے ہمارا دست وبازو تھے۔ اسی عرصے میں القاعدہ کے چوٹی کے کمانڈر اور افغان مجاھدین پشاور میں جمع ہوئے اور انہوں نے القاعدہ کی بنیاد رکھی۔ القاعدہ افغانستان میں جاری خانہ جنگی کا نتیجہ تھی۔ اس دہشت گرد تنظیم کی تشکیل میں سعودی عرب اور امریکا کا کوئی کردار نہیں۔شہزادہ ترکی الفیصل نے مزید کہا کہ اسامہ بن لادن کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔

میری اسامہ کے ساتھ پاکستان میں سعودی سفارت خانے میں مختلف مواقع پر ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد اسامہ سے ایک ملاقات جدہ میں ہوئی تھی۔اس ملاقات میں اسامہ بن لادن نے کمیونسٹ طرز عمل کے خلاف جنو بی یمن میں عرب مجاھدین کی انٹیلی جنس مدد فراہم کرنے کی درخواست کی مگر میں نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی تھی۔سنہ 1995ء میں سوڈان کے سابق صدر عمرالبشیر نے خرطوم میں پناہ حاصل کرنے والے اسامہ بن لادن کو اس شرط پر سعودی عرب کے حوالے کرنے کا اعلان کیا کہ بن لادن کے خلاف سعودیہ میں کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی مگر سعودی حکومت نے سوڈانی صدر کی پیش کش مسترد کردی۔

اس کے بعد اسامہ بن لادن افغانستان چلے گئے۔ اس وقت کے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے مجھے افغانستان میں ملا عمر کے پاس بھیجا تاکہ میں انہیں اسامہ بن لادن کی سعودی عرب کو حوالگی پرقائل کروں مگر اس میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ایک سوال کے جواب میں سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف نیشہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ اخوان المسلمون ناقابل اعتبار تنظیم ہے۔ اخوان کے لوگ سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ وہ سعودی ولی الامر کی اطاعت کے بجائے وفاداری کے لیے اپنے مرشد عام کی بیعت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے مجھے دو وفود میں اخوان المسلمون کے ساتھ بات چیت کے لیے بھیجا۔ جدہ میں ہونیوالی اس ملاقات میں مجھے پتا چلا کہ اخوان المسلمون کویت پر عراق کے حملے کی حامی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…