جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

ملائیشیا میں مقیم پاکستانی ملازمین کیلئے اپنے ملک جیسی سہولیات پاکستانیوں کو پینشن دینے کا معاہدہ طے پا گیا

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) وزارت اوورسیز پاکستانیز اور سوشل سیکیورٹی ملائیشیا کے درمیان پاکستانی محنت کشوں کو ملائیشین سوشل سیکیورٹی میں شامل کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔اس معاہدے کے تحت ملائیشن ایمپلائرز قانونی طور پر کام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں کی معلومات ملائیشین سوشل سیکیورٹی کو فراہم کریں گے۔حادثے کی صورت میں پاکستانی محنت کشوں کو مفت طبی اور مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

کام کے دوران انتقال کی صورت میں اہلخانہ کو تاحیات ماہانہ وظیفہ ملے گا۔وزارت اوورسیز پاکستانی کے مطابق ہر سال تقریبا 15ہزار پاکستانی کام کی غرض سے ملائیشیا جاتے ہیں۔اس معاہدے کے تحت ملائیشیا میں کام کرنے والے 82 ہزار پاکستانی فائدہ اٹھا سکیں گے۔معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تقریب سوشل سیکیورٹی ملائیشیا ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں پاکستان کی جانب سے ہائی کمشنر آمنہ بلوچ اور ملائیشیا کی جانب سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سوشل سیکیورٹی داتو سیری محمد نے دستخط کیے۔اس موقع پر داتو سیری محمد کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی ملائیشیا میں کام کرنے والے محنت کشوں کی فلاح بہبود پر سنجیدگی قابل ستائش ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ کوئی پاکستانی ملازم ملائشیا میں جاں بحق ہوا تو اس کے خاندان کو پینشن ملے گی۔ملائیشیا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ملائیشیا کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور دفاع کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہو گی۔حالیہ دورے میں ملائیشیا میں 3 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔دورے سے دوستانہ تعلقات کا اسٹریٹجک تعلقات میں بدلنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا رواں سال ملائیشیا سے آنے والے ترسیلات زر میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ملائیشیا میں مقیم پاکستانیوں نے رواں سال ایک ارب 55 کروڑ ڈالر وطن بھجوائے۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ کوئی پاکستانی کارکن ملائشیا میں جاں بحق ہوا تو اس کے خاندان کو پینشن دی جائے گی۔پاکستان اور ملائشیاء کے درمیان قیدیوں کی حوالگی کے معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے ہیں۔ معاہدے پر دستخط پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی اور ملائشیاء کے وزیر قانون نے کئے جبکہ تقریب میں دونوں ملکوں کے وزیراعظم بھی موجود تھے۔‎



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…