جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

ملائیشیا میں مقیم پاکستانی ملازمین کیلئے اپنے ملک جیسی سہولیات پاکستانیوں کو پینشن دینے کا معاہدہ طے پا گیا

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) وزارت اوورسیز پاکستانیز اور سوشل سیکیورٹی ملائیشیا کے درمیان پاکستانی محنت کشوں کو ملائیشین سوشل سیکیورٹی میں شامل کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔اس معاہدے کے تحت ملائیشن ایمپلائرز قانونی طور پر کام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں کی معلومات ملائیشین سوشل سیکیورٹی کو فراہم کریں گے۔حادثے کی صورت میں پاکستانی محنت کشوں کو مفت طبی اور مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

کام کے دوران انتقال کی صورت میں اہلخانہ کو تاحیات ماہانہ وظیفہ ملے گا۔وزارت اوورسیز پاکستانی کے مطابق ہر سال تقریبا 15ہزار پاکستانی کام کی غرض سے ملائیشیا جاتے ہیں۔اس معاہدے کے تحت ملائیشیا میں کام کرنے والے 82 ہزار پاکستانی فائدہ اٹھا سکیں گے۔معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تقریب سوشل سیکیورٹی ملائیشیا ہیڈکوارٹر میں ہوئی جہاں پاکستان کی جانب سے ہائی کمشنر آمنہ بلوچ اور ملائیشیا کی جانب سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سوشل سیکیورٹی داتو سیری محمد نے دستخط کیے۔اس موقع پر داتو سیری محمد کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی ملائیشیا میں کام کرنے والے محنت کشوں کی فلاح بہبود پر سنجیدگی قابل ستائش ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ کوئی پاکستانی ملازم ملائشیا میں جاں بحق ہوا تو اس کے خاندان کو پینشن ملے گی۔ملائیشیا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ملائیشیا کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور دفاع کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہو گی۔حالیہ دورے میں ملائیشیا میں 3 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔دورے سے دوستانہ تعلقات کا اسٹریٹجک تعلقات میں بدلنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا رواں سال ملائیشیا سے آنے والے ترسیلات زر میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ملائیشیا میں مقیم پاکستانیوں نے رواں سال ایک ارب 55 کروڑ ڈالر وطن بھجوائے۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ کوئی پاکستانی کارکن ملائشیا میں جاں بحق ہوا تو اس کے خاندان کو پینشن دی جائے گی۔پاکستان اور ملائشیاء کے درمیان قیدیوں کی حوالگی کے معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے ہیں۔ معاہدے پر دستخط پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی اور ملائشیاء کے وزیر قانون نے کئے جبکہ تقریب میں دونوں ملکوں کے وزیراعظم بھی موجود تھے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…