بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

زمین کا تنازعہ ،وفاقی وزیر میاں محمد سومرو کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کا انکشاف

datetime 22  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیرنجکاری میاں محمد سومرو کی جانب سے گوجر خان ، مندرا میں زمین  کے تنازعہ میں اختیارات کے غلط استعمال کا انکشاف،تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر نے13اپریل 2005 کو خسرہ نمبر 473 موضع ا بوچہ ، تحصیل گوجر خان سے جی ٹی روڈ پر واقع 17 مرلہ اراضی خریدی۔

مراد اکبر نے9جون 2008 کو اسی خسرہ نمبر سے مزید 23 مرلہ اراضی خریدی،2009 میں انہوں نے گوجر خان کے ریونیو آفس میں اس کی زمین کی تقسیم اور اس کے قبضے کے لئے درخواست دی۔10 سال تک جاری رہنے والی قانونی چارہ جوئی کے بعد ، اپریل 2018 میں گوجر خان ریونیو آفس نے پارٹیشن سوٹ کو حتمی شکل دے دی اور خسرا نمبر 473 کو دو حصوں خسرا نمبر 473/1اور473/2میں تقسیم کردیا اور خسرہ نمبر ،473/1 ،40مرلے کا مالک قرار دیدیا،انہیں قبضہ دینے کے بعد ریونیو آفس نے بطور تقسیم نمبر 2849 مورخہ 31مئی 2018 کو بھی خصوصی اور قانونی مالک اورمراد اکبرکو خسرہ نمبر 473/1 کا مالک قرار دیا،تعمیرات شروع کرنے سے پہلے مراد اکبر نے اپنی زمین کے طول و عرض کی13جنوری 2020 کو حد بندی کی تھی۔انھوں نے تحصیل دفتر گوجرخان میں حد بندی کی رپورٹ پر اتفاق کیا۔جواد ملک نے 13 ، 14 ، 15 ، 16 جنوری کو اسلام آباد پولیس کی گاڑی اور وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کی اسکواڈ ڈیوٹی کے لئے تفویض کردہ عہدیداروں کے ہمراہ گوجر خان ریونیو آفس کا دورہ کیا۔17 جنوری کو جب مزدور حد دیوار کی تعمیر کے لئے مراد اکبر کی زمین پر کام کر رہے تھے ۔

میاں محمد سومرو سرکاری گاڑ ی نمبر GAE 538 کے ساتھ اسلام آباد پولیس کی وردی میں ملبوس اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ جواد ملک کے نام پر رجسٹرڈ ایک اور نجی وگو UC-1-ICT ، مسلح محافظوں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچا اور نتائج بھگتنے کی دھمکی دی اور کام روکنے کا کہا۔محمد میاں سومرو نے مندرا پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو فون کیا اور مداخلت کرنے کا حکم دیا۔گوجرخان کے محکمہ محصولات نے دونوں فریقوں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ مراد اکبر قانونی مالک ہونے کے ناطے اپنی دیوار بناسکتے ہیں۔محمد میاں سومرو کے زیر اثر مقامی ایس ایچ او نے پنجاب کے دائرہ اختیار میں اسلام آباد پولیس حکام کو روکنے سے انکار کردیا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…