ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ممتاز علمائے دین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ممتاز علمائے دین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کرنے والوں میں مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ الحدیث مولانا فضل الرحیم، شیخ الحدیث مولانا حنیف جالندھری نے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کیا۔

ملاقات نہ کرنے والوں میں شیخ الاسلام مفتی زرولی خان، علامہ ساجد میر بھی شامل ہیں۔ ملاقات نہ کرنے کی وجہ تاحال سمجھ نہیں آ سکی۔ خیال رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت علماء مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور مدارس ریفارمز پرغورکیا گیا۔اجلاس میں اہم حکومتی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے علماء کرام سے آزادی مارچ رکوانے کیلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیر اعظم نے علما کرام سے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے میں بھی کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم نے علما کرام کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دینی مدارس کے حوالے سے انقلابی ریفارمز کی جا رہی ہیں، دینی مدارس کے طلباء کو حکومتی سرپرستی فراہم کریں گے۔انہوں نے شرکا اجلاس سے سوال کیا کہ وہ کونسا مسلمان ہے جو ختم نبوت کا پہرے دار نہیں؟ مشاورتی اجلاس میں شریک علامہ طاہر اشرفی نے میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے آزادی مارچ پر زیادہ بات نہیں کی، وزیراعظم نے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ملاقات مولانا کے آزادی مارچ سے متعلق نہیں، حکومتوں میں دھرنے اور احتجاج ہوتے رہتے ہیں، احتجاج معمول کی بات ہے، حکومت کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں۔ ممتاز علمائے دین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…