جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف نے (کھل) کر مولانا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔لیکن ن لیگ کا فیصلہ ابھی باقی ہے‘ یہ اجلاس پر اجلاس کر رہی ہے،کیا نواز شریف اور ن لیگ کا فیصلہ الگ الگ ہو سکتا ہے؟مولانا اورحکومت کیا حکمت عملی بنا رہے ہیں،جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 14  اکتوبر‬‮  2019 |

پاکستان کا الیکشن کمیشن پانچ ارکان پر مشتمل ہوتا ہے، ہر صوبے سے ایک رکن لیا جاتا ہے اور یہ ارکان چیف الیکشن کمشنر کی قیادت میں کام کرتے ہیں، اٹھارہویں ترمیم میں فیصلہ ہوا تھا چیف الیکشن کمشنر اور تمام ارکان کی تقرری وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر مل کر کریں گے، اس سال 26 جنوری کو بلوچستان اور سندھ کے رکن ریٹائر ہو گئے،

آئین کے مطابق یہ دونوں نشستیں 45 دن کے اندر پُر ہونی تھیں لیکن وزیراعظم کیونکہ اپوزیشن لیڈر سے ملنے کے لیے تیار نہیں تھے چناں چہ ارکان کا فیصلہ نہ ہو سکا، صدر عارف علوی نے 22 اگستکو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کی طرف سے خالد محمود صدیقی اور بلوچستان سے منیر احمد کاکڑ کو الیکشن کمیشن میں تعینات کر دیا، چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا خان نے ان ارکان سے حلف لینے سے انکار کر دیا، یہ ایشو اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا، آج چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے یہ مسئلہ پارلیمنٹ کو ریفر کر دیا اور ساتھ ہی ری مارکس دیے، الیکشن کمیشن غیرفعال ہو چکا ہے‘ کیا پارلیمنٹ یہ چھوٹا سا معاملہ بھی حل نہیں کر سکتی‘ ہائی کورٹ نے سپیکر اور چیئرمین سینٹ دونوں کو یہ ڈیڈ لاک ختم کرنے کی ذمہ داری سونپ دی لیکن چیف جسٹس یہ بھول گئے چیف الیکشن کمشنر بھی دسمبر کے پہلے ہفتے میں ریٹائر ہو جائیں گے جس کے بعد الیکشن کمیشن مکمل طور پر غیرفعال ہو جائے گا‘ میں چیف جسٹس سے اتفاق کرتا ہوں‘ اگر پارلیمنٹ دو ارکان کا فیصلہ نہیں کر سکتی‘ اگر یہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو اکٹھا نہیں بٹھا سکتی تو پھر اس پارلیمنٹ کی کیا جسٹی فکیشن ہے‘ پھر اسے بھی ختم کرکے کالج یا یونیورسٹی بنا دینا چاہیے‘ پارلیمنٹ کو ایک بار صرف ایک بار اپنی اداؤں پر ضرور غور کرنا چاہیے، میاں نواز شریف نے کھل کر مولانا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا لیکن ن لیگ کا فیصلہ ابھی باقی ہے، یہ اجلاس پر اجلاس کر رہی ہے‘ آج بھی اجلاس ہوا لیکن کوئی اعلان سامنے نہیں آیا، کیا نواز شریف اور ن لیگ کا فیصلہ الگ الگ ہو سکتا ہے، مولانا بھی تیاری کر رہے ہیں اور ادھر حکومت بھی ایکٹو ہو رہی ہے‘ دونوں کیا کیا حکمت عملی بنا رہے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…