بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

نواز شریف نے (کھل) کر مولانا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔لیکن ن لیگ کا فیصلہ ابھی باقی ہے‘ یہ اجلاس پر اجلاس کر رہی ہے،کیا نواز شریف اور ن لیگ کا فیصلہ الگ الگ ہو سکتا ہے؟مولانا اورحکومت کیا حکمت عملی بنا رہے ہیں،جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 14  اکتوبر‬‮  2019 |

پاکستان کا الیکشن کمیشن پانچ ارکان پر مشتمل ہوتا ہے، ہر صوبے سے ایک رکن لیا جاتا ہے اور یہ ارکان چیف الیکشن کمشنر کی قیادت میں کام کرتے ہیں، اٹھارہویں ترمیم میں فیصلہ ہوا تھا چیف الیکشن کمشنر اور تمام ارکان کی تقرری وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر مل کر کریں گے، اس سال 26 جنوری کو بلوچستان اور سندھ کے رکن ریٹائر ہو گئے،

آئین کے مطابق یہ دونوں نشستیں 45 دن کے اندر پُر ہونی تھیں لیکن وزیراعظم کیونکہ اپوزیشن لیڈر سے ملنے کے لیے تیار نہیں تھے چناں چہ ارکان کا فیصلہ نہ ہو سکا، صدر عارف علوی نے 22 اگستکو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کی طرف سے خالد محمود صدیقی اور بلوچستان سے منیر احمد کاکڑ کو الیکشن کمیشن میں تعینات کر دیا، چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا خان نے ان ارکان سے حلف لینے سے انکار کر دیا، یہ ایشو اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا، آج چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے یہ مسئلہ پارلیمنٹ کو ریفر کر دیا اور ساتھ ہی ری مارکس دیے، الیکشن کمیشن غیرفعال ہو چکا ہے‘ کیا پارلیمنٹ یہ چھوٹا سا معاملہ بھی حل نہیں کر سکتی‘ ہائی کورٹ نے سپیکر اور چیئرمین سینٹ دونوں کو یہ ڈیڈ لاک ختم کرنے کی ذمہ داری سونپ دی لیکن چیف جسٹس یہ بھول گئے چیف الیکشن کمشنر بھی دسمبر کے پہلے ہفتے میں ریٹائر ہو جائیں گے جس کے بعد الیکشن کمیشن مکمل طور پر غیرفعال ہو جائے گا‘ میں چیف جسٹس سے اتفاق کرتا ہوں‘ اگر پارلیمنٹ دو ارکان کا فیصلہ نہیں کر سکتی‘ اگر یہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو اکٹھا نہیں بٹھا سکتی تو پھر اس پارلیمنٹ کی کیا جسٹی فکیشن ہے‘ پھر اسے بھی ختم کرکے کالج یا یونیورسٹی بنا دینا چاہیے‘ پارلیمنٹ کو ایک بار صرف ایک بار اپنی اداؤں پر ضرور غور کرنا چاہیے، میاں نواز شریف نے کھل کر مولانا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا لیکن ن لیگ کا فیصلہ ابھی باقی ہے، یہ اجلاس پر اجلاس کر رہی ہے‘ آج بھی اجلاس ہوا لیکن کوئی اعلان سامنے نہیں آیا، کیا نواز شریف اور ن لیگ کا فیصلہ الگ الگ ہو سکتا ہے، مولانا بھی تیاری کر رہے ہیں اور ادھر حکومت بھی ایکٹو ہو رہی ہے‘ دونوں کیا کیا حکمت عملی بنا رہے ہیں؟

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…