جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

آزاد کشمیر میں پھرزلزلے کے جھٹکے، اموات کی تعداد 37 تک پہنچ گئی،بڑ ے پیمانے پر تباہی

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

میر پور /اسلام آباد (این این آئی)آزاد کشمیر میں گزشتہ روز آنے والے شدید زلزلے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 37ہوگئی جبکہ علاقے میں آفٹرشاکس کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد زلزلہ متاثرین کو رات گھروں سے باہر گزارنی پڑی۔تفصیلات کے مطابق آنے والے 5.8 شدت کے زلزلے سے سب سے زیادہ آزاد کشمیر کے علاقے متاثر ہوئے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ڈویژنل کمشنر محمد طیب نے بتایا کہ

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی ٹیموں نے مختلف علاقوں سے حاصل معلومات کے بات بتایا کہ جاں بحق افراد کی تعداد 37 ہوگئی ہے۔ان کے مطابق ضلع میرپور میں 33 افراد جاں بحق اور قریب ہی واقع ضلع بھمبر سے تعلق رکھنے والے 4 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 18 سے 85 سال تک کے درمیان ہے، یہ تمام اموات میرپور میں ہوئیں، تاہم ضلع بھمبر کا ڈومیسائل رکھنے والے بھی میرپور کی حدود میں ہی موت کا شکار ہوئے۔زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی وہی اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے بھی شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا۔رپورٹس کے مطابق علاقے میں زلزلے کے آفٹرشاکس کا سلسلہ جاری رہا گزشتہ رات اور صبح کے اوقات میں بھی ان شاکس کو محسوس کیا گیا جس کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کا ورد کرتے رہے۔زلزلے کے باعث جاتلاں میں مختلف مقامات پر سڑکیں دھنس گئیں جبکہ متعدد عمارتیں بھی تباہ ہوگئی جس کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔متعدد زلزلہ متاثرین نے رات گھروں سے باہر گزاری جبکہ خواتین اور بچے بھی مختلف مقامات پر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور نظر آئے۔دوسری جانب زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے پاک فوج، سول انتظامیہ اور

ریسکیو اداروں کا امدادی آپریشن جاری ہے اور مختلف علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل افضل نے اپنی ٹیم اور امدادی سامان کے ہمراہ میرپور کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔قبل ازیں آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے بھی ہسپتال کا دورہ کیا تھا اور زلزلے سے متاثرہ افراد کی خیریت دریافت کی تھی۔اس کے علاوہ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے

بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور زخمیوں سے ملاقات کی۔ادھر این ڈی ایم اے کی جانب سے زلزلہ متاثرین کی بحالی کا کام جاری ہے اور اب تک 200 ٹینٹس، 800 کمبل اور 200 کچن سیٹس فراہم کیے جاچکے ہیں۔علاوہ ازیں این ڈی ایم اے نے بتایا کہ اب تک 452 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی، جس میں 160 افراد شدید جبکہ 292 معمولی زخمی بتائے گئے۔بتایا گیا کہ جتلاں بازار میں عمارتیں تباہ ہونے سے لوگ وہاں پھنس گئے جبکہ بھمبر سے بھی پل کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔زلزلے کے باعث ضلع میرپور اور کوٹلی میں بجلی کی فراہمی معطل ہے جبکہ مرکزی جتلاں سڑک کو بری طرح نقصان پہنچا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…