جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

زلزلے کے آفٹر شاکس جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی،متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت،خوف کے باعث مردوں نے گرین بیلٹ پر ساری رات جاگ کر گزاری، خواتین، بچوں نے پارکوں میں پناہ لی

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

مظفر آباد (سی پی پی)آزاد کشمیر میں زلزلے کے آفٹر شاکس جاری ہیں جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی اور 452 افراد زخمی ہیں۔آزاد کشمیر میں زلزلے کے مزید جھٹکے محسوس ہوئے ہیں جس کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔ خوف کے باعث مردوں نے سڑکوں کے کنارے گرین بیلٹ پر ساری رات جاگ کر گزاری ۔

جبکہ خواتین اور بچوں نے مقامی پارکوں میں پناہ لی۔ضلعی انتظامیہ میرپورکے مطابق آزاد کشمیرمیں زلزلہ سے جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی اور452 افراد زخمی ہوئے۔ جاتلاں کا روڈ انفراسٹرکچرمکمل طورپرتباہ جب کہ منگلا جانے والی مرکزی شاہراہ اورمتعدد پل زمین بوس ہوگئے ہیں۔زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو مصائب کا سامنا ہے۔ لوگوں کے گھر اور کاروبار تباہ ہوگئے جبکہ اب تک بجلی بحال نہ کی جاسکی۔ کھمبے اور ٹرانسفارمرزمین پر گرے ہوئے ہیں جب کہ پینے کی پانی کی بھی شدید قلت ہوگئی۔زیرزمین پانی بھی گدلا اورناقابل استعمال ہوگیا ہے، بجلی کی عدم دستیابی کے باعث کچھ علاقوں میں لگائے گئے واٹر پلانٹس بھی نہیں چل سکے، کھانے پینے سے محروم لوگوں نے آفٹر شاکس کے خوف سے رات جاگ کر گزاری، لوگوں کے گھروں کی بیرونی دیواریں گرنے سے پل منڈا، سانگ، سنوال شریف سمیت ملحقہ علاقوں میں چوری کی وارداتیں بھی ہوئیں۔پاک فوج کے دستے متاثرہ علاقوں کے سروے کیلئے پہنچ گئے جب کہ پنجاب حکومت کی ہدایت پرریسکیو ٹیمیں بھی میرپورپہنچ گئیں۔ ریسکیو 1122 کی 5 امدادی گاڑیاں اورجان بچانے والا دیگر سامان بھی ہمراہ ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل افضل نے زلزلہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق 160 زخمیوں کی حالت نازک ہے، ڈی ایچ کیومیرپوراورافضل پورمیں گیارہ گیارہ لاشیں لائی گئیں، اسلام گڑھ اور منگلا میں ایک ایک شخص زلزلے سے جاں بحق ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…