ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف صدر مملکت کو خط لکھنے پر مس کنڈکٹ کی کارروائی پر بڑا فیصلہ سنادیا

datetime 19  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائزعیسی ٰکے خلاف صدر مملکت کو خط لکھنے پر مس کنڈکٹ کی کارروائی ختم کر دی ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے سماعت کے بعد درخواست خارج کرنے کا فیصلہ سنایا۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہونے پر صدر مملکت کو خط لکھنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے وکیل ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ نے آئین کے آرٹیکل 209کے تحت کارروائی کی درخواست کی تھی۔درخواستگزار نے موقف اختیار کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں بے نامی جائیداوں سے متعلق ریفرنس کا جواب دینے کے بجائے صدر مملکت کو اس حوالے سے خط لکھ کر مس کنڈکٹ کیا ہے۔ججزکے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے خط لکھتے وقت جسٹس قاضی فائر عیسٰی دباؤ میں تھے۔ ریفرنس کی خبریں چلتے وقت انکے سسر اور بیٹی بیمار تھے۔نہیں لگتا صدر مملکت کو خط لکھنا کوئی سنجیدہ معاملہ تھا۔کونسل نے لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے صدر مملکت کو خط لکھنا مس کنڈکٹ نہیں تھا،درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ صدر پاکستان کو لکھے گئے خط جسٹس قاضی فائر عیسی نے لیک کیے،صدر مملکت کو لکھا گیا خط ذاتی حیثیت میں تھا۔ریفرنس کو مسترد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ وحید شہزاد بٹ سے سوالات کے جواب میں وہ ایسا کوئی ثبوت مہیا نہیں کر سکے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے صدر کو لکھے گئے اپنے خطوط کے بارے میں کسی سے کچھ کہا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…