جیل میں ایئرکنڈیشنر، ٹی وی، ریڈیو، مائیکروویو اوون، مچھرمار لائٹ، ٹارچ اور ایک خادمہ مہیا کی جائے،قرآن پاک سننے کیلئے آئی پوڈ بھی رکھنے کی اجازت دی جائے،فریال تالپور کی استدعا،جانتے ہیں آگے سے جج نے کیا کہا؟

  پیر‬‮ 19 اگست‬‮ 2019  |  10:23

اسلام آباد(اے این این ) جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں 5 ستمبر تک توسیع کر دی گئی۔پیر کو آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کو سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیا۔سماعت کے دوران فریال تالپور کی جانب سے جیل میں اضافی سہولتوں کی درخواست دائر کرائی گئی جس میں جیل میں آئی پوڈ بھی ساتھ رکھنے


کی اجازت کی استدعا کی گئی۔ فریال تالپور نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل میں مجھے سہولیات دی جائیں، ایئرکنڈیشنر، ٹی وی، ریڈیو، مائیکروویو اوون، مچھرمار لائٹ، ٹارچ اور ایک خادمہ مہیا کی جائے۔ فریال تالپور نے درخواست میں مزید کہا کہ جیل میں قرآن پاک سننے کیلئے آئی پوڈ رکھنے کی اجازت دی جائے۔فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ان کی موکلہ کو قرآن کی آیات سننا ہوتی ہیں اس لیے انہیں آئی پوڈ رکھنے کی اجازت دی جائے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئی پوڈ میں وائی فائی یا انٹرنیٹ نہیں ہو گا، فریال تالپور صرف قرآنی آیات ہی سن سکیں گی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ پہلے جیل حکام سے بات کر کے اجازت لیں۔فریال تالپور کی جانب سے راہداری ریمانڈ کی درخواست پر نیب نے اپنا جواب بھی عدالت میں جمع کرایا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آج سے سندھ اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں فریال تالپور کو شریک ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی عدالت نے راہداری ریمانڈ دیا تھا۔ اگر آج راہداری ریمانڈ ہو جائے تو فریال تالپور اجلاس میں شریک ہو سکیں گی۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فریال تالپور جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، راہداری ریمانڈ کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔سماعت کے دوران آصف علی زرداری کو جیل میں اے کلاس دینے کی درخواست کی سماعت کے موقع پر ان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالتی فیصلہ احتساب عدالت میں پیش کیا۔اس موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ جیل والے بہت تنگ کرتے ہیں۔ لطیف کھوسہ کا اپنے موقف میں کہنا تھا کہ آصف زرداری جب صدر پاکستان بھی نہیں بنے تھے تو انہیں عدالت نے اے کلاس دینے کا حکم دیا تھا، میں کسی اور سے متعلق فیصلہ سامنے نہیں رکھ رہا، اب آصف زرداری سابق صدر ہیں۔ایڈوکیٹ لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ سابق صدر کو متعدد بیماریاں لاحق ہیں، ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے لہذا آصف زرداری کو جیل میں اے سی کی سہولت دی جائے۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ان تمام درخواستوں پر نیب کا موقف بھی سن لیں۔ جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ آپ پہلے کہہ چکے کہ یہ درخواستیں نیب سے متعلقہ نہیں ہیں۔سردار مظفر نے کہا کہ ہم نے صرف ایک درخواست کے بارے میں کہا کہ نیب سے متعلقہ نہیں ہے، دیگر درخواستوں میں ہمارا موقف سنیں۔جج محمد بشیر نے کہا کہ میں نہیں سن رہا، یہ جیل حکام سے متعلقہ معاملہ ہے، آپ اپنا موقف تحریری طور پر لکھ کر جمع کرا دیں۔نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کے جج سے کہا کہ آپ کس طرح بات کر رہے ہیں۔ ہم آفیسرز آف دی کورٹ ہیں، ہمارا موقف سننا ہو گا۔احتساب عدالت کے جج نے جوابا کہا میں نہیں سنتا، عدالت میں اونچی آواز سے بات مت کریں، جس پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے اپنے سخت رویے پر عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی دقت ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔جج احتساب عدالت نے کہا کہ جب آپ نے کہہ دیا نیب سے تعلق نہیں تو پھر چھوڑ دیں، میں تو نیب کا موقف سننا چاہتا تھا لیکن آپ نے خود کہا میرا کام نہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 90 دن کے بعد بھی مرکزی ریفرنس کی کاپیاں ہمیں نہیں دی جا سکیں جس پر احتساب عدالت کے جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کاپیاں کیوں فراہم نہیں کی جا سکیں؟۔نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ریفرنس کی کاپیاں رجسٹرار کے پاس جمع کرائی جا چکی ہیں۔جج محمد بشیر نے اس موقع پر کہا کہ ایک درخواست وہ بھی دی گئی تھی کہ نماز نہیں پڑھنے دیتے۔لطیف کھوسہ نے کہا جی، زرداری صاحب کو عید کی نماز بھی نہیں پڑھنے دی گئی۔ سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہم اس میں جواب دینا چاہتے ہیں، جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان کو جواب دینے دیں، دیکھتے ہیں نماز سے روکنے کی کیا وجہ بتائی جاتی ہے؟۔عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید5ستمبر تک توسیع کر دی ۔جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق پارک لین ریفرنس کی احتساب عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو سابق صدر آصف زرداری سمیت دیگر ملزمان کی حاضری لگائی گئی۔ عدالت نے کہا کہ آج تمام ملزمان کی حاضری مکمل ہو جاتی ہے تو انہیں ریفرنس کی کاپیاں دی جائیں۔نیب کے تفتیشی افسر نے ملزمان یونس کوڈواوی، اقبال میمن اور عزیز نعیم کے وارنٹ گرفتاری پر تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ تینوں ملزمان ملک سے باہر ہیں اس لیے انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔احتساب عدالت کے جج نے استفسار کیا کہ ملک سے باہر کہاں اور کس ملک میں ہیں؟ ملزم کو بیرون ملک سے واپس بھی تو لایا جا سکتا ہے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ یونس کوڈواوی کینیڈا میں ہیں، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو یہی بات لکھ کر دینے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ واپس کر دی۔بعدازاں پارک لین کیس میں ملزمان کو ریفرنس کی نقول فراہم کر دی گئیں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ تھانے کے ایس ایچ اوز بہت تیز ہوتے ہیں، فورا بتا دیتے ہیں کہ بندہ نہیں مل رہا، ہمارے تفتیشی کبھی لکھتے ہیں کہ ملزم ملک سے باہر ہے، پھر کینیڈا لکھتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں نہیں مل رہا اور آخر بات وہیں آ جاتی ہے جو پولیس والے پہلے ہی بتا دیتے ہیں۔دوران سماعت سردار لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا کہ نیب کہتا رہا لیکن منی لانڈرنگ ریفرنس کی کاپیاں جمع نہیں کرائی جا سکیں۔جج محمد بشیر نے موقف اختیار کیا کہ میں چیئرمین نیب کو ہدایت دے رہا ہوں کہ آئندہ سماعت پر کاپیاں جمع کرائیں، چیئرمین نیب کو لکھ رہا ہوں، ان کے نوٹس میں آئے گا تو جلدی ہو جائے گا۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نیب جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں ضمنی ریفرنس دائر کرے گا۔ جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کیس بینکنگ کورٹ سے منتقل ہوا ہے، نیب ضمنی ریفرنس دائر نہیں کر سکتا۔احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ جو کیس اس عدالت میں منتقل ہو چکا وہی ریفرنس ہے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنس پر کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے آصف زرداری اور فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی ۔ آصف زرداری اور فریال تالپو رکی سہولتوں کیلئے درخواست پر سماعت کل ہوگی۔جج محمد بشیر نے کہا کہ کل ملزمان کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں صرف وکلا آئیں۔

موضوعات:

loading...