جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں11ویں روز بھی لاک ڈاؤن، کشمیری بدستور گھروں میں محصور ،بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ بن گیا

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کا11واں روز ، بھارتی فورسزنے کئی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ کشمیری بدستور گھروں میں محصور ہیں، بچے بھوک سے بلبلانے لگے، ادویات کی بھی قلت ہے۔بھارت کے جبر کے سامنے کشمیری ڈٹ گئے ہیں، کرفیو لاک ڈائون سمیت ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کی بھارتی اقدامات کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔

بھارت نے سیکیورٹی مزید بڑھا دی ہے۔سری نگر سمیت کشتواڑ، پلواما اور پونچھ میں ہزاروں قابض فوجی گشت کر رہے ہیں، مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ مسلسل بند ہے، کشمیری اخبارات اب تک اپڈیٹ نہیں ہو سکے، اخبارات پر صرف تاریخ بدل رہی ہے، خبریں پرانی ہی ہیں، بیرونی دنیا کا وادی سے رابطہ منقطع ہے، حریت رہنما مسلسل نظر بند ہیں۔وادی میں کرفیو کے باوجود لوگوں نے بھارت کا یوم آزاد یوم سیاہ کے طور پر منایا اور محاصرے توڑ کر سیاہ پرچموں کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔اس دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی کو گرفتار کرنے کی بھی اطلاعات ہیں ۔وادی میں مقامی اخبارات اور جرائد کی اشاعت پر بھی بدستور پابندی عائد ہے ۔میڈیا کی سرگرمیاں مکمل پر ختم ہو گئی ہیں ۔ ادھر بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کرفیو کے نفاذ کے بعد پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ جمعے کی نماز کے بعد مقبوضہ وادی میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم ہوا تھا۔مقامی افراد نے اس احتجاج کے حوالے سے کہا تھا کہ 8 ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا تھا جن کو منتشر کرنے کے لیے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور پیلٹ گنز فائر کیے تھے۔

مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے حوالے سے بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مقامی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے بعد واپسی پر شرپسند شہریوں میں مل گئے اور انہوں نے بلااشتعال قانون نافذ کرنے والی فورسز پر پتھراو کیا جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی پھیل گئی۔ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مزاحمت کی اور امن و عامہ کو بحال رکھنے کی کوشش کی اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد جموں کشمیر میں کوئی فائر نہیں کی گئی۔خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا اعلان کیا تھا اور مقبوضہ وادی میں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کو معطل کرکے کرفیو نافذ کردیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…