جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مقبوضہ کشمیر میں11ویں روز بھی لاک ڈاؤن، کشمیری بدستور گھروں میں محصور ،بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ بن گیا

datetime 15  اگست‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کا11واں روز ، بھارتی فورسزنے کئی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ کشمیری بدستور گھروں میں محصور ہیں، بچے بھوک سے بلبلانے لگے، ادویات کی بھی قلت ہے۔بھارت کے جبر کے سامنے کشمیری ڈٹ گئے ہیں، کرفیو لاک ڈائون سمیت ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کی بھارتی اقدامات کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔

بھارت نے سیکیورٹی مزید بڑھا دی ہے۔سری نگر سمیت کشتواڑ، پلواما اور پونچھ میں ہزاروں قابض فوجی گشت کر رہے ہیں، مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ مسلسل بند ہے، کشمیری اخبارات اب تک اپڈیٹ نہیں ہو سکے، اخبارات پر صرف تاریخ بدل رہی ہے، خبریں پرانی ہی ہیں، بیرونی دنیا کا وادی سے رابطہ منقطع ہے، حریت رہنما مسلسل نظر بند ہیں۔وادی میں کرفیو کے باوجود لوگوں نے بھارت کا یوم آزاد یوم سیاہ کے طور پر منایا اور محاصرے توڑ کر سیاہ پرچموں کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔اس دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی کو گرفتار کرنے کی بھی اطلاعات ہیں ۔وادی میں مقامی اخبارات اور جرائد کی اشاعت پر بھی بدستور پابندی عائد ہے ۔میڈیا کی سرگرمیاں مکمل پر ختم ہو گئی ہیں ۔ ادھر بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کرفیو کے نفاذ کے بعد پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ جمعے کی نماز کے بعد مقبوضہ وادی میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم ہوا تھا۔مقامی افراد نے اس احتجاج کے حوالے سے کہا تھا کہ 8 ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا تھا جن کو منتشر کرنے کے لیے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور پیلٹ گنز فائر کیے تھے۔

مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے حوالے سے بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مقامی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے بعد واپسی پر شرپسند شہریوں میں مل گئے اور انہوں نے بلااشتعال قانون نافذ کرنے والی فورسز پر پتھراو کیا جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی پھیل گئی۔ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مزاحمت کی اور امن و عامہ کو بحال رکھنے کی کوشش کی اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد جموں کشمیر میں کوئی فائر نہیں کی گئی۔خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا اعلان کیا تھا اور مقبوضہ وادی میں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کو معطل کرکے کرفیو نافذ کردیا تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…