جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

بڑے انسانی سانحہ کا خطرہ، وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے مدد مانگ لی‎

datetime 11  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان اورایرانی صدرکے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے،اس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ بھارت کاغیرآئینی اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر سے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے ہاتھوں بڑے انسانی سانحہ کاخطرہ ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انسانی سانحہ روکنے کے لئے عالمی برادری کردار ادا کرے،

واضح رہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہوگا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک رابطے میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملے پر گفتگو کی گئی، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ وادی میں بھارتی جارحیت پر تشویش کا اظہار کیا، ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ قانونی مفادات کا حصول اور پرامن زندگی کشمیریوں کا حق ہے، ایرانی صدر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں تحمل کا مظاہرہ کریں، کشمیر کا مسئلہ طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہوگا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ خطے میں تناؤ اور بدامنی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایران کی مجلس اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دونوں راہنماؤں نے عالمی فورموں پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر اتفاق کیا ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو آئیدہ ہونے والی اسپیکر کانفرنس کے ایجنڈے میں رکھا جائے۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کیا۔بھارتی آئین میں یکطرفہ ترمیم کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بہیمانہ اقدام سے آگاہ کیا۔

اسد قیصر نے کہا کہ انڈیا نے کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کشمیر میں لاکھوں بی گناھوں کو قتل کیا گیا۔ پیلٹ گنز کے ذریعے نوجوانوں کی بینائی چھینی گئی ہے۔بھارتی مظالم آزادی کشمیرکی تحریک کو سرد نہیں کر سکے۔ اسپیکر اسد قیصر نے کہاکہ ایران اور کشمیر کے صدیوں پر محیط لسانی، ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں۔ ایرانی قیادت نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی۔توقع ہے ایران عالمی سطح پر بھرپور کردار ادا کرے گا۔

اسپیکر ایران علی لاریجانی کاکہنا تھا کہپاکستان ایران کا عزیز برادر ملک ہے۔ مشکل اور مظلومیت کی اس گھڑی میں ایران کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہاکہ ایران کشمیر کے معاملے پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل فوجی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چایئے۔آئیت اللہ خامینائی کا کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق واضح موقف رہا ہے۔ ایران اس حوالے سے کسی بھی قسم کی مصالحتی کردار کے لیئے تیار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…