جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مودی سرکار کا ایک اور گھناؤنا قدم، مقبوضہ کشمیر میں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیو نافذ،تمام تعلیمی ادارے بند، انٹرنیٹ سروسز، موبائل فون اور لینڈ لائن ٹیلی فون سروسز بھی معطل، امتحانات ملتوی کر دئیے گئے

datetime 5  اگست‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سری نگر ( آن لائن )مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کرتے ہوئے دارالحکومت سری نگر سمیت وادی کے کئی اضلاع میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا۔بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت نے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں سمیت دو سابق وزرائے اعلیٰ کو گھروں پر نظر بند کر دیا اور ہزاروں اضافی فوجی تعینات کر کے اہم شاہراؤں کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا۔

مقبوضہ وادی میں شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ انٹرنیٹ سروسز، موبائل فون اور لینڈ لائن ٹیلی فون سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔اسکول اور کالجز سمیت تمام تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں جب کہ یونی ورسٹیز میں 5 سے 10 اگست تک ہونے والے امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں اور کسی بھی قسم کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے ایک اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ امن کے لیے لڑنے والے منتخب نمائندوں کو بھی گھروں پر نظربند کیا جا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں عوام کی آواز بند کی جا رہی ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے۔ عمر عبداللہ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کے بعد سے بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم میں اضافہ ہو گیا ہے۔گزشتہ روز بھی بھارتی فورسز کی جانب سے ضلع کپواڑہ میں فائرنگ کر کے 7 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بھی جارحیت میں اضافہ ہو گیا ہے اور بھارتی فورسز کشمیریوں کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنا رہی ہیں جو جینیوا کنوینشن اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم اور ایل او سی پر کلسٹر بموں کے استعمال کا نوٹس لیا جائے۔گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پرخطر راستے اختیار کر سکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم کی حمایت سے بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور پاکستان کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…