جعلی اکائونٹس کیس میں ایک اور ملزم وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے تیار ،جانتے ہیں یہ شخص کون ہے؟

  پیر‬‮ 29 اپریل‬‮ 2019  |  10:56

اسلام آباد (این این آئی)احتساب عدالت اسلام آباد میں جعلی بینک اکائونٹس کیس کی سماعت کے دور ان ایک اور ملزم شیر محمد نے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست دیدی۔ پیر کو جعلی بینک اکائونٹس کیس کی اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سماعت ہوئی جس میں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔جعلی اکائونٹس کیس میں ایک اور ملزم شیر محمد نے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست دیدی ۔دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کے گوش گزار کیا کہ پیپر بْکس کی ایک


ایک کاپی تیار کی ہے، عدالت ریکارڈ کا جائزہ لے۔دورانِ سماعت کراچی کی جیل میں قید کیس کے 4 ملزمان کو پیش نہیں کیا جا سکا جس پر جج نے استفسار کیا کہ ملزمان کی پیشی کے لیے چیف سیکریٹری سندھ کو نوٹس کیا تھا، اس کا کیا بنا؟نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں ملا۔عدالت کے حکم پر ملزمان کی طلبی کیلئے چیف سیکریٹری سندھ کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیا گیا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اقبال آرائیں کا انتقال ہو گیا ہے۔جج نے کہا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ مل گیا ہے، اسے تصدیق کے بعد پیش کریں۔نیب نے عدالت کو بتایا کہ کیس کے ایک ملزم شیر محمد نے وعدہ معاف بننے کی درخواست دی ہے جو موصول ہو گئی ہے، اس درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں 9 مئی تک توسیع کرتے ہوئے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو 20، 20 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے عبدالغنی مجید، انور مجید اور حسین لوائی کو پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎