پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

مجھے لگتا ہے کہ یہ حکومت ڈلیور نہیں کر پا رہی، یہ تو خود اپنا مذاق بنوا رہے ہیں، حامد میر نے انتہائی تشویشناک پیش گوئی کر دی

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت خود اپنا مذاق بنوا رہی ہے، ان خیالات کا اظہار معروف صحافی حامد میر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اس لیے بنایا تھا تاکہ اسمبلی کا اجلاس شروع ہو اور اپوزیشن کی مدد کے ساتھ 4 یا 5 بل منظور کیے جائیں، حامد میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بھی کیونکہ اس قانون سازی میں بہت دلچسپی رکھتے تھے،

عمران خان کا خیال تھا کہ تین چار معاملات ایسے ہیں جن پر قانونی سازی ہو گی تو انہیں سیاسی فائدہ ہو گا اس سے حکومت کو بریک تھرو ملے گا اور یہ تاثر بھی ختم ہو گا کہ حکومت کچھ نہیں کر پا رہی۔ معروف صحافی نے کہا کہ جب شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بن گئے تو عمران خان خود اسمبلی اجلاس میں آئے تو اس وقت اپوزیشن نے بہت واویلا کیا اس پر عمران خان غصے میں آ گئے، حامد میر نے کہا کہ پاکستان میں کچھ ایسے معاملات ہو رہے ہیں جو ان سے سنبھل نہیں رہے ہیں، ساہیوال میں پیش آنے والے واقعہ سے پنجاب حکومت کی نااہلی سامنے آئی، حامد میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس کے علاوہ مجھے بہت سے وفاقی وزراء نے حالیہ گیس بلوں بارے بتایا جس سے ان کے حلقوں میں بڑی ناراضگی پائی جا رہی ہے اور سب لوگوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم کو اس حوالے سے آگاہ بھی کیا ہے۔ معروف صحافی نے کہا کہ مجھے یہ لگتا ہے کہ حکومت ڈیلیور نہیں کر پا رہی اور کارکردگی نہ دکھانے کے باعث وہ اب اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے نئے ایشوز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین شہباز شریف کو پہلے خود حکومت نے بنایا اور اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس سے ہٹ جائیں تو اس سے یہ اپنا مذاق خود بنوا رہے ہیں، حامد میر نے کہا کہ شہباز شریف سے استعفے کا مطالبہ غیر سیاسی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی کیونکہ شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ میں آٹھ دن دیتا ہوں کہ شہباز شریف پی اے سی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے دیں اور شیخ رشید خود بھی چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بننا چاہتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ شیخ رشید کو کسی نے یہ کہا ہے کہ آپ یہ کام کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…