جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

کرکٹ کی دنیا کے 21 سابق لیجنڈ کپتانوں نے عمران خان کیلئے آواز بلند کردی

datetime 24  اگست‬‮  2026 |

لاہور(این این آئی) دنیا بھر کے 21 سابق ٹیسٹ و بین الاقوامی کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک اور خط لکھ کر سابق پاکستانی کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے اور مناسب علاج کا مطالبہ کر دیا۔

میڈیارپورٹ کے مطابق سابق کپتانوں نے خط میں کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کرنے اور ایسے میڈیکل بورڈ سے معائنہ کرانے کی ہدایت کی تھی جس میں ان کے ذاتی معالجین اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی شامل ہوں جبکہ ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بھی بحال کی گئی تھیں۔خط میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ عمران خان کا ہسپتال میں قیام صرف چند گھنٹوں تک محدود رہا اور سپریم کورٹ کی ہدایت کردہ میڈیکل بورڈ کے بجائے سرکاری طور پر مقرر کردہ ٹیم نے ان کا معائنہ کیا جس نے انہیں طبی طور پر فٹ قرار دے کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔سابق کپتانوں نے تین مطالبات پیش کیے ہیں جن میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق میڈیکل بورڈ کو عمران خان، خصوصاً ان کی دائیں آنکھ کی مبینہ بینائی میں کمی، کا مکمل اور آزادانہ معائنہ کرنے کی اجازت دینا، ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بلا تعطل یقینی بنانا اور طبی معائنے کی بنیاد پر تجویز کردہ علاج فوری فراہم کرنا شامل ہے۔خط پر دستخط کرنے والوں میں مائیکل ایتھرٹن، ایلکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، مائیکل بریرلی، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، ایلسٹر کک، مائیکل گیٹنگ، سنیل گواسکر، لی جرمین، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گاور، کم ہیوز، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا راناٹنگا، اینڈریو سٹراس، دلیپ وینگسرکر، سٹیو وا اور جان رائٹ شامل ہیں۔سابق کپتانوں نے واضح کیا کہ وہ یہ اپیل سیاستدانوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ کرکٹ کے میدان میں عمران خان کے سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے کر رہے ہیں اور پاکستان کے داخلی قانونی معاملات میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ یہ سابق عالمی کپتانوں کی جانب سے وزیراعظم کو چھ ماہ کے دوران دوسرا خط ہے، رواں سال فروری میں 14 سابق کپتانوں نے بھی عمران خان کی صحت اور مبینہ طور پر ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…