پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کرکٹ کی دنیا کے 21 سابق لیجنڈ کپتانوں نے عمران خان کیلئے آواز بلند کردی

datetime 24  اگست‬‮  2026 |

لاہور(این این آئی) دنیا بھر کے 21 سابق ٹیسٹ و بین الاقوامی کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک اور خط لکھ کر سابق پاکستانی کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے اور مناسب علاج کا مطالبہ کر دیا۔

میڈیارپورٹ کے مطابق سابق کپتانوں نے خط میں کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کرنے اور ایسے میڈیکل بورڈ سے معائنہ کرانے کی ہدایت کی تھی جس میں ان کے ذاتی معالجین اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی شامل ہوں جبکہ ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بھی بحال کی گئی تھیں۔خط میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ عمران خان کا ہسپتال میں قیام صرف چند گھنٹوں تک محدود رہا اور سپریم کورٹ کی ہدایت کردہ میڈیکل بورڈ کے بجائے سرکاری طور پر مقرر کردہ ٹیم نے ان کا معائنہ کیا جس نے انہیں طبی طور پر فٹ قرار دے کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔سابق کپتانوں نے تین مطالبات پیش کیے ہیں جن میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق میڈیکل بورڈ کو عمران خان، خصوصاً ان کی دائیں آنکھ کی مبینہ بینائی میں کمی، کا مکمل اور آزادانہ معائنہ کرنے کی اجازت دینا، ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بلا تعطل یقینی بنانا اور طبی معائنے کی بنیاد پر تجویز کردہ علاج فوری فراہم کرنا شامل ہے۔خط پر دستخط کرنے والوں میں مائیکل ایتھرٹن، ایلکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، مائیکل بریرلی، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، ایلسٹر کک، مائیکل گیٹنگ، سنیل گواسکر، لی جرمین، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گاور، کم ہیوز، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا راناٹنگا، اینڈریو سٹراس، دلیپ وینگسرکر، سٹیو وا اور جان رائٹ شامل ہیں۔سابق کپتانوں نے واضح کیا کہ وہ یہ اپیل سیاستدانوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ کرکٹ کے میدان میں عمران خان کے سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے کر رہے ہیں اور پاکستان کے داخلی قانونی معاملات میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ یہ سابق عالمی کپتانوں کی جانب سے وزیراعظم کو چھ ماہ کے دوران دوسرا خط ہے، رواں سال فروری میں 14 سابق کپتانوں نے بھی عمران خان کی صحت اور مبینہ طور پر ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…