اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سولر صارفین کے لیے اہم پیش رفت، نیپرا کا زیرِ التوا نیٹ میٹرنگ کیسز کا ریکارڈ اپ ڈیٹ کرنے کا حکم سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (PITC) کو زیرِ التوا نیٹ میٹرنگ کنکشنز کا ریکارڈ دوبارہ جانچنے اور اسے تازہ ترین معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
نیپرا کی اس ہدایت سے ان صارفین کو امید پیدا ہوئی ہے جنہوں نے نیٹ میٹرنگ کنکشن کے لیے تمام ضروری مراحل مکمل کر رکھے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی درخواستیں تاحال زیرِ التوا ہیں۔ ہدایت کے تحت ڈسکوز اور کے الیکٹرک میں موجود ایسے کیسز کا جائزہ لیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق اس عمل میں 9 فروری 2026 سے قبل کے زیرِ التوا نیٹ میٹرنگ کنکشنز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد زیرِ التوا درخواستوں کی موجودہ حیثیت معلوم کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ کن صارفین کی جانب سے تمام مطلوبہ تقاضے مکمل کیے جاچکے ہیں۔یہ پیش رفت نئے پروزیومر ریگولیشنز کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے تحت سولر سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین اور نیٹ میٹرنگ کے نظام سے متعلق مختلف تبدیلیاں اور سوالات سامنے آئے تھے۔
نیپرا کی ویب سائٹ پر بھی رواں ماہ پروزیومر کنکشنز سے متعلق مختلف منظوریوں اور کنکرنسز کا ریکارڈ موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گرڈ سے منسلک سولر صارفین کے معاملات پر کارروائی جاری ہے۔نیٹ میٹرنگ میں تاخیر پر شکایت کا طریقہنیپرا نے نیٹ میٹرنگ کنکشن کے حصول میں غیر ضروری تاخیر کی صورت میں صارفین اور متعلقہ انسٹالرز کے لیے شکایت درج کرانے کا نظام بھی قائم کر رکھا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق 25 کلوواٹ تک کے نیٹ میٹرنگ کنکشن کی تنصیب میں تاخیر ہونے پر شکایت درج کرائی جاسکتی ہے۔یعنی جن صارفین نے سولر سسٹم لگانے کے بعد نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواست دی اور ضروری دستاویزات سمیت تمام مراحل مکمل کیے، لیکن اب تک کنکشن کے منتظر ہیں، ان کے کیسز کی دوبارہ جانچ کی جائے گی۔تاہم نیپرا کی جانب سے PITC کو ریکارڈ چیک کرنے کی ہدایت کا یہ مطلب نہیں کہ تمام زیرِ التوا درخواستوں کو فوری طور پر نیٹ میٹرنگ کنکشن جاری کردیا گیا ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد زیرِ التوا کیسز کی اصل صورتحال سامنے لانا، ریکارڈ درست کرنا اور اہل درخواستوں پر قواعد کے مطابق مزید کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔



















































