اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ہماری پوری گورنمنٹ واٹس ایپ پر چل رہی ہے،واٹس ایپ کے اس پورے ریجن کے سرورز انڈیا میں ہیں ،ہو سکتا ہے سرحد کے پار ہماری پوری حکومت کی گفتگو سنی جا رہی ہو، عمران خان کی باتوں کا فورم غلط ہو سکتا ہے لیکن کیا ملک میں غربت‘ کرپشن‘ بے روزگاری اور پسماندگی نہیں ہے اور کیا خاموش رہنے سے یا منہ پر ٹیپ لگانے سے یہ مسئلے حل ہو جائیں گے، جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

ہم ماڈل پسند کرنے والی قوم ہیں‘ ہمیں کبھی چائنیز ماڈل پسند آ جاتا ہے‘ ہم کبھی پاکستان میں امام خمینی کے انقلاب کی کاشت کاری شروع کر دیتے ہیں‘ ہم کبھی ترکش ماڈل سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں اور ہم کبھی ملائیشین ماڈل سے بغل گیر ہو جاتے ہیں لیکن ہم ماڈل ماڈل کی اس گردان میں یہ بھول جاتے ہیں قوموں نے یہ تمام ماڈل اپنے لئے بنائے تھے‘ چائنیز ماڈل صرف چین‘ ایرانی انقلاب صرف ایران‘ ترکش ماڈل صرف ترکش اور

ملائیشین ماڈل صرف ملائشیا میں کامیاب ہوا‘ یہ ماڈل جس قوم نے بھی کاپی کرنے کی کوشش کی وہ بری طرح ناکام ہوئی‘ پاکستان ایک الگ اور منفرد ملک ہے‘ اس ملک میں اگر کوئی ماڈل کامیاب ہو سکتا ہے تو وہ ماڈل پاکستانی ہو گا‘ ہم نے جس دن پاکستانی ماڈل بنا لیا‘ ہم اس دن کامیاب ہو جائیں گے مگر بدقسمتی سے ہماری صورت حال یہ ہے ہماری پوری گورنمنٹ واٹس ایپ پر چل رہی ہے‘ بیورو کریٹس ہوں‘ وزراء ہوں‘ ہماری اسٹیبلشمنٹ ہو‘ ہماری اپوزیشن ہو‘ ہماری جوڈیشری ہو یا پھر ہمارے بزنس مین ہوں یہ جب بھی کوئی خفیہ بات کرنا چاہتے ہیں یا یہ کوئی خفیہ حکم دینا چاہتے ہیں تو یہ دوسرے کو ’’واٹس ایپ پر آ جاؤ‘‘ کا پیغام دیتے ہیں اور واٹس ایپ پر کال کر دیتے ہیں لیکن ہم یہ بات بھول جاتے ہیں واٹس ایپ کے اس پورے ریجن کے سرورز انڈیا میں ہیں اور سرورز کو ہیک کرنا اب ناممکن نہیں رہا چنانچہ ہو سکتا ہے سرحد کے پار ہماری پوری حکومت کی گفتگو سنی جا رہی ہو‘ آپ اندازہ کیجئے ہم لوگ‘ ہم سپر مائینڈ لوگ اگر اپنی حکومت کیلئے کوئی محفوظ اور ذاتی ایپلی کیشن نہیں بنا سکتے تو ہم نے پورے ملک کیلئے کیا ماڈل تخلیق کرنا ہے‘ ہم لوگ تو معیشت کیلئے بھی ملائشیا کے مہاتیر محمدکے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں‘ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، عمران خان کی باتوں کا فورم غلط ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کیا یہ باتیں بھی غلط ہیں‘ کیا ملک میں غربت‘ کرپشن‘ بے روزگاری اور پسماندگی نہیں ہے اور کیا خاموش رہنے سے یا منہ پر ٹیپ لگانے سے یہ مسئلے حل ہو جائیں گے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…