اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

سی پیک دشمنوں کی سازشیں اثر دکھا گئیں ، چین نے بالآخر ایسا اعلان کردیا جو کسی کے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(رائٹرز)چین نے کہا ہےکہ نئی پاکستانی حکومت کے ایجنڈے پر عمل کرینگے اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے حوالے سے مجوزہ تبدیلیوں کیلئے بھی تیار ہیں،اس سلسلے میں روڈ میپ تیار کیے جانے کی ضرورت ہے، صرف ان منصوبوں پر کام ہو گا جن پر پاکستان کی رضامندی ہو گی، ’’بوٹ‘‘ ماڈل پر عمل اورچینی کمپنیوں کوسرمایہ کاری کیلئے بھی آمادہ کرینگے۔

دوسری جانب غیرملکی خبرساںادارے نے کہا ہےکہ اخراجات اور قرض کے بوجھ تلے دب جانے کے خوف سے پاکستان کو نئی شاہراہ ریشم کے متعدد منصوبوں پر تحفظات ہیں اور نئی حکومت نےاس سلسلے میں ان منصوبوں پر دوبارہ غور شروع کردیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساںادارے کے سوالوں کے جواب میں چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں فریق ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹِو‘ کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہیں۔پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جنگ نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ بیجنگ حکومت اسلام آباد کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر نظر ثانی کے لئے تیار ہے اور اس ضمن میں ایک روڈ میپ تیار کیے جانے کی ضرورت ہے، انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ صرف ان منصوبوں پر ہی کام ہو گا جن میں پاکستان کی رضامندی شامل ہو گی، یہ پاکستان کی معیشت ہے ، یہ انکا معاشرہ ہے۔ چینی سفیر نے یہ بھی کہا کہ بیجنگ ’’بوٹ‘‘ ماڈل کیلئے بھی تیار ہے اور اپنی کمپنیوں کوسرمایہ کاری کےلئے آمادہ کریگا۔ ادھر غیر ملکی خبررساں ادارے کا کہناہےکہ قرضوں کے جال میں پھنسنے کے خوف کے باعث پاکستا ن نے سلک روڈ منصوبوں پر دوبارہ غور شروع کردیا ہے۔پاکستان اور چین کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود یہ بات ظاہر ہے کہ سی پیک کی تحت طے کیے گئے متعدد منصوبوں پر پاکستانی حکومت گہرے تحفظات کا شکار ہے، حکام کا خیال ہے کہ زیادہ تر منصوبے چین کے بہت زیادہ مفاد میں ہیں۔

پاکستانی وزير برائے منصوبہ بندی خسرو بختيار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے حال ہی ميں بات چيت کرتے ہوئے بتايا تھا کہ حکومت کوئی ايسا ماڈل تيار کرنے کی کوشش ميں ہے، جس کی مدد سے پورے کا پورا خطرہ صرف پاکستان ہی کو مول نہ لینا پڑے۔ بختیار 8.2 بلین ڈالر مالیت کے اس منصوبےکے بارے ميں بات کر رہے تھے، جس کے تحت کراچی سے پشاور تک ريلوے ٹريک بچھايا جانا ہے، یہ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انيشی ايٹِو‘ (BRI) کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

تاہم اخراجات اور قرض کے بوجھ تلے دب جانے کے خوف سے پاکستان نئی شاہراہ ریشم کے ایسے متعدد منصوبوں کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہے۔ ادھر چینی وزارت خارجہ کا کہناہےکہ بیجنگ ریل منصوبے پر پاکستان کیساتھ دوستانہ مشاورت میں مصروف ہے۔دوسری جانب پاکستان کے تین سینئر اہلکاروں نے رائٹرز کو بتایا کہ چین صرف ان منصوبوں پر دوبارہ بات چیت کے لیے تیار ہے جن پر اب تک کام شروع نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…