اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

سی پیک دشمنوں کی سازشیں اثر دکھا گئیں ، چین نے بالآخر ایسا اعلان کردیا جو کسی کے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(رائٹرز)چین نے کہا ہےکہ نئی پاکستانی حکومت کے ایجنڈے پر عمل کرینگے اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے حوالے سے مجوزہ تبدیلیوں کیلئے بھی تیار ہیں،اس سلسلے میں روڈ میپ تیار کیے جانے کی ضرورت ہے، صرف ان منصوبوں پر کام ہو گا جن پر پاکستان کی رضامندی ہو گی، ’’بوٹ‘‘ ماڈل پر عمل اورچینی کمپنیوں کوسرمایہ کاری کیلئے بھی آمادہ کرینگے۔

دوسری جانب غیرملکی خبرساںادارے نے کہا ہےکہ اخراجات اور قرض کے بوجھ تلے دب جانے کے خوف سے پاکستان کو نئی شاہراہ ریشم کے متعدد منصوبوں پر تحفظات ہیں اور نئی حکومت نےاس سلسلے میں ان منصوبوں پر دوبارہ غور شروع کردیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساںادارے کے سوالوں کے جواب میں چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں فریق ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹِو‘ کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہیں۔پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جنگ نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ بیجنگ حکومت اسلام آباد کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر نظر ثانی کے لئے تیار ہے اور اس ضمن میں ایک روڈ میپ تیار کیے جانے کی ضرورت ہے، انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ صرف ان منصوبوں پر ہی کام ہو گا جن میں پاکستان کی رضامندی شامل ہو گی، یہ پاکستان کی معیشت ہے ، یہ انکا معاشرہ ہے۔ چینی سفیر نے یہ بھی کہا کہ بیجنگ ’’بوٹ‘‘ ماڈل کیلئے بھی تیار ہے اور اپنی کمپنیوں کوسرمایہ کاری کےلئے آمادہ کریگا۔ ادھر غیر ملکی خبررساں ادارے کا کہناہےکہ قرضوں کے جال میں پھنسنے کے خوف کے باعث پاکستا ن نے سلک روڈ منصوبوں پر دوبارہ غور شروع کردیا ہے۔پاکستان اور چین کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود یہ بات ظاہر ہے کہ سی پیک کی تحت طے کیے گئے متعدد منصوبوں پر پاکستانی حکومت گہرے تحفظات کا شکار ہے، حکام کا خیال ہے کہ زیادہ تر منصوبے چین کے بہت زیادہ مفاد میں ہیں۔

پاکستانی وزير برائے منصوبہ بندی خسرو بختيار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے حال ہی ميں بات چيت کرتے ہوئے بتايا تھا کہ حکومت کوئی ايسا ماڈل تيار کرنے کی کوشش ميں ہے، جس کی مدد سے پورے کا پورا خطرہ صرف پاکستان ہی کو مول نہ لینا پڑے۔ بختیار 8.2 بلین ڈالر مالیت کے اس منصوبےکے بارے ميں بات کر رہے تھے، جس کے تحت کراچی سے پشاور تک ريلوے ٹريک بچھايا جانا ہے، یہ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انيشی ايٹِو‘ (BRI) کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

تاہم اخراجات اور قرض کے بوجھ تلے دب جانے کے خوف سے پاکستان نئی شاہراہ ریشم کے ایسے متعدد منصوبوں کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہے۔ ادھر چینی وزارت خارجہ کا کہناہےکہ بیجنگ ریل منصوبے پر پاکستان کیساتھ دوستانہ مشاورت میں مصروف ہے۔دوسری جانب پاکستان کے تین سینئر اہلکاروں نے رائٹرز کو بتایا کہ چین صرف ان منصوبوں پر دوبارہ بات چیت کے لیے تیار ہے جن پر اب تک کام شروع نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…